اسلام آباد: بچوں کے نازیبا مواد کا انٹرنیشنل نیٹ ورک تباہ، اپنے بچوں کی غیرمناسب ویڈیوز بناکر بیچنے والا باپ بھی گرفتار

اتوار 25 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے بچوں کے فحش مواد کا ایک بین الاقوامی نیٹ ورک تباہ کر دیا ہے جس میں ایک باپ اپنے ہی بچوں کی فحش ویڈیوز بنانے اور بیچنے میں ملوث پایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: 2 سالوں میں 88 ہزار سے زائد فحش اور غیر قانونی ویب لنکس بلاک کردیے، پی ٹی اے

این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد شعیب خان نے اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا معاملہ ہے جہاں ایک باپ اپنے ہی نابالغ بچوں کے خلاف اس قدر سنگین جرم میں ملوث پایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ملزم اپنے 4 سے 5 سال کی عمر کے بچوں کی فحش ویڈیوز بنانے اور انھیں بیچنے میں ملوث تھا۔

یہ ویڈیوز خفیہ ٹیلی گرام گروپس میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے خریدی اور بیچی جاتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران ویڈیوز میں جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کے پریشان کن مناظر بھی سامنے آئے۔

انہوں نے کہا کہ گینگ کا سرغنہ اسکردو کا رہنے والا تھا جسے بین الاقوامی ایجنسیوں کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔ تحقیقات کے دوران اسلام آباد، ملتان اور جنوبی پنجاب سے اہم روابط اور شواہد برآمد ہوئے اور نیٹ ورک کے دیگر معاونین کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سنگین جرائم میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

ایک اور ملتے جلتے کیس میں شعیب خان نے بتایا کہ ایجنسی نے ایک بچے کے موبائل فون سے برآمد ہونے والی تقریباً 60 ویڈیوز کی تحقیقات کے بعد بچوں کے فحش مواد کے ایک گینگ کے 4 اراکین کو گرفتار کر لیا۔

مزید پڑھیے: شہرت کے لیے جان بوجھ کر غیر اخلاقی مواد بناتا رہا، گرفتار ٹک ٹاکر کے لرزہ خیز اعترافات

انہوں نے کہا کہ ملزمان انسٹاگرام پر 6 سے 14 سال کی عمر کے بچوں سے دوستی کرتے، انہیں پیسوں کا لالچ دے کر فحش ویڈیوز بنواتے اور پھر انھیں واٹس ایپ گروپس اور بین الاقوامی سطح پر بیچتے تھے۔

شعیب خان نے بتایا کہ اس جرم میں اس سے پہلے دو چینی شہریوں کو بھی سزا دی جا چکی ہے۔

ایک اور کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر نے کہا کہ کراچی کی ایک نابالغ لڑکی ہراساں کیے جانے سے تنگ آ کر خودکشی کی کوشش کر چکی ہے۔ لڑکی اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہے۔

شعیب خان نے کہا کہ این سی سی آئی اے کی ٹیم نے متاثرہ کے خاندان کی مدد سے صرف 13 گھنٹوں میں اسلام آباد سے مرکزی ملزم کو تلاش کر کے گرفتار کر لیا۔

ملزم گزشتہ 2 سے 3 سال سے مسلسل متاثرہ کو ہراساں اور بلیک میل کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے اور خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر نے سوشل میڈیا صارفین کو ہوشیار رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی فحش مواد اپ لوڈ کرنے سے پہلے سوچیں کیوں کہ قانون حرکت میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غلط مواد اپ لوڈ کرنے والے کسی بھی صورت میں قانون سے نہیں بچ سکتے۔

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنا ون ٹائم پاس ورڈ، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات یا ذاتی معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں اور جعلی ویب سائٹس پر موجود جعلی نمبرز سے خبردار رہیں کیونکہ انہیں کال کرنے سے اکاؤنٹس خالی ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ سائبر کرائم کا شکار ہیں تو خاموش نہ رہیں این سی سی آئی اے آپ کے ساتھ ہے۔

مزید پڑھیں: انسٹاگرام پر بچوں کو فحش ویڈیوز تجویز کیے جانے کا انکشاف

شعیب خان نے مزید بتایا کہ شہری شکایات کے لیے ہیلپ لائن 1799 پر کال کر سکتے ہیں جو 24 گھنٹے دستیاب ہے۔

خواتین اور بچوں کے سائبر ہراساں ہونے کے خلاف ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی

این سی سی آئی اے کے ایک علیحدہ بیان کے مطابق ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی نے سوشل میڈیا پر شہریوں خصوصاً خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے والے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کی ہدایت کی۔

یہ ہدایات ایک اجلاس میں دی گئیں جس میں خان، ڈائریکٹر آئی ٹی عاطف عباس، سوشل میڈیا انچارج طیبہ دولت، پبلک ریلیشنز آفیسر محبوب الٰہی اور دیگر نے شرکت کی۔بیان کے مطابق اجلاس میں سوشل میڈیا کی نگرانی، جعلی خبروں کی روک تھام، سائبر ہراساں کیسز، عوامی آگاہی مہم اور سائبر کرائم کی شکایات کے ڈیجیٹل ہینڈلنگ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ ڈی جی این سی سی آئی اے نے سوشل میڈیا پر شہریوں کے تحفظ، شکایات کے فوری ازالے اور ادارہ جاتی رابطہ کاری کو زیادہ مؤثر اور فعال بنانے کی ہدایات جاری کیں۔

یہ بھی پڑھیے: بھارتی خاتون کی شناخت چرا کر فحش AI مواد کرکے 5 دنوں میں لاکھوں کمانے والے کا اب انجام کیا ہوگا؟

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر شہریوں خصوصاً خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے والے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جانی چاہیے۔”بیان کے مطابق ڈی جی نے جعلی خبریں پھیلانے، ریاستی اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ اور عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے والے اکاؤنٹس کی سخت نگرانی اور ذمہ داروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا حکم بھی دیا۔

23 اکتوبر کو این سی سی آئی اے کراچی زون نے 3 کمپنیوں سے مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا جو مبینہ طور پر جنسی طور پر فحش اینیمیٹڈ کارٹونز، بچوں کے جنسی استحصال کے اینیمیٹڈ مواد، فحش ڈیجیٹل مواد کی تیاری، تشہیر اور آن لائن فروخت اور دیگر ڈیجیٹل ڈیزائنگ سروسز بین الاقوامی گاہکوں کو فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

ایک سال کے دوران 15 لاکھ بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکار

یونیسف کی ایک حالیہ رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں ایک سال کے دوران تخمینہً 15 لاکھ بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکار ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 85 فیصد مجرم متاثرین سے جاننے والے تھے جن کی عمر 12 سے 17 سال کے درمیان تھی۔

مزید برآں یونیسف رپورٹ کے مطابق 71 فیصد متاثرین نے کسی کو نہیں بتایا جبکہ سروے میں شامل کسی بھی بچے نے پولیس، ہیلپ لائنز یا سماجی کارکنوں سمیت باضابطہ ذرائع سے استحصال کی اطلاع نہیں دی۔

اس کے علاوہ چائلڈ پروٹیکشن این جی او ساحل کا تخمینہ ہے کہ 2026 کے پہلے 6 ماہ میں پورے ملک میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے کم از کم 1,914 کیسز رپورٹ ہوئے۔

جنوری سے جون 2026 تک بچوں کے جنسی استحصال کے 1,015، اغوا کے 558، گمشدہ بچوں کے 101 اور بچوں کی شادی کے 35 کیسز رپورٹ ہوئے۔

اس کے علاوہ جنسی استحصال کے بعد فحش مواد کے 98 کیسز بھی ریکارڈ کیے گئے۔

ساحل کی رپورٹ چاروں صوبوں بشمول اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف قومی اور علاقائی اخبارات سے جمع کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کی گئی۔

مزید پڑھیں: پاکستان سمیت دُنیا بھر کی خواتین سیاستدان، اداکارائیں فحش ویب سائٹ کا شکار

کل رپورٹ شدہ کیسز میں سے 58 فیصد متاثرین لڑکیاں تھیں۔ ڈیٹا سے یہ بھی سامنے آیا کہ 11 سے 15 سال کی عمر کے بچے بدسلوکی کا سب سے زیادہ شکار ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

برطانوی شاہی خاندان میں دوریاں ختم ہونے کا امکان، پرنس ہیری، میگن مارکل نے معافی مانگنے کا عندیہ دیدیا

ایلون مسک کے اسٹارلنک کو  ٹکر، چین نے انٹرنیٹ سیٹلائٹس کا 28 واں بیچ خلا میں روانہ کردیا

’جس اسرائیل میں ہم پلے بڑھے وہ ختم ہو رہا ہے‘: ہزاروں بیرون ملک مقیم اسرائیلی نیتن یاہو کے خلاف ووٹ ڈالنے وطن پہنچ گئے

پاکستان ریلوے نے اپنے افسران کے فضائی سفر پر پابندی عائد کردی

پاکستان انگلینڈ ون ڈے میں بریسٹ کینسر سے آگاہی کا رنگ، قومی ٹیم گلابی کٹس میں میدان میں اتری

ویڈیو

میرٹ پر 5 لاکھ کروم بکس تقسیم ہوں گی، دانش اسکولوں میں جدید تعلیمی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی، وزیر اعظم شہباز شریف

حرمین شریفین ہماری ریڈلائن، مکہ دفاعی معاہدے سے مخالف قوتوں کو پریشانی لاحق ہے، مولانا عبدالخبیر آزاد

پاکستان میں کم عمر خواتین بریسٹ کینسر کا شکار کیوں ہو رہی ہیں؟ خاموش گلٹی بھی خطرے کی گھنٹی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں

یورپ کی جین زی اتنے غصے میں کیوں ہے؟