حرمین شریفین ہماری ریڈلائن، مکہ دفاعی معاہدے سے مخالف قوتوں کو پریشانی لاحق ہے، مولانا عبدالخبیر آزاد

اتوار 25 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین، سربراہ مجلس علمائے پاکستان اور خطیب بادشاہی مسجد لاہور مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدہ صرف حرمین شریفین کے تحفظ تک محدود نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کی سلامتی اور دفاع کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے۔

اتحاد میں مزید اسلامی ممالک کی شمولیت سے مسلم دنیا ایک ایسی مضبوط قوت بن کر ابھر سکتی ہے جس کا مقابلہ کرنا کسی کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ حرمین شریفین ہماری ریڈلائن ہے، مکہ دفاعی معاہدے سے مخالف قوتوں کو پریشانی لاحق ہے۔

’وی نیوز ایکسکلوسیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالخبیر آزاد نے مکہ دفاعی معاہدے، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں، مسلم ممالک کے اتحاد، پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں اور سوشل میڈیا پر جاری منفی مہمات سمیت مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی۔

حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے

مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہاکہ حرمین شریفین کے ساتھ مسلمانوں کا تعلق محض عقیدت کا نہیں بلکہ ایمان کا تعلق ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کی قسم کھائی ہے اور اسے امن کی سرزمین قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں مذاکراتی حل ناگزیر، ناکامی پر مکہ الائنس کا اجتماعی دفاعی نظام متحرک ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر

انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ مقدس مقامات ہیں اور پاکستان سمیت پوری امت مسلمہ کا ہر فرد ان کے تحفظ کے لیے قربانی دینے کو تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین ہمارے ایمان کا حصہ ہیں، ہمارے دل و دماغ اور جسم ان مقدس مقامات کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ان مقدس مقامات سے بڑھ کر ہمارے لیے کوئی چیز عزیز نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو پاکستانی اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں، جبکہ سعودی عوام بھی پاکستان کے بارے میں ایسے ہی جذبات رکھتے ہیں۔

چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے کہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مکہ مکرمہ میں پاکستان اور ترکیہ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے ایک عظیم کام کیا۔

انہوں نے کہاکہ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل جنرل حافظ عاصم منیر اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی موجودگی میں دفاعی معاہدہ طے پایا، جس نے امت مسلمہ کے تحفظ کے لیے ایک نئی بنیاد فراہم کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ حرمین شریفین کے دفاع کے ساتھ پوری امت مسلمہ کی بقا اور سلامتی کے لیے بھی اہم ہے۔

مولانا عبدالخبیر آزاد کے مطابق اس دفاعی اتحاد کے قیام سے بعض مخالف قوتوں کو شدید پریشانی لاحق ہوئی ہے، کیونکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ 3 اہم مسلم طاقتیں ہیں جن کی مشترکہ صلاحیتیں خطے میں طاقت کے توازن پر اثرانداز ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض قوتیں ان ممالک کو بھی عراق اور لیبیا جیسے حالات سے دوچار کرنا چاہتی ہیں، تاہم پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور مسلم ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون ان کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔

اس سوال پر کہ کیا بعض مسلم ممالک بھی اس معاہدے سے خوش نہیں، مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ اگر کوئی مسلم ملک ایسے معاملات میں منفی کردار ادا کررہا ہے تو اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کسی مخصوص مسلم ملک کا نام لینے سے گریز کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور اس سے منسلک قوتیں مسلم دنیا میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں، لیکن امت مسلمہ کو متحد ہوکر ایسے عزائم ناکام بنانے چاہییں۔

پاکستان نے دنیا کو اپنی دفاعی طاقت دکھا دی

مولانا عبدالخبیر آزاد نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے، لیکن جب ملک پر حملہ کیا گیا اور مساجد اور گھروں کو نشانہ بنایا گیا تو پاکستان کو جواب دینا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر نے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوکر قرآن کریم سے رہنمائی حاصل کی اور پھر آپریشن بُنیانُ مَّرصوص کے ذریعے دشمن کو جواب دیا گیا۔

ان کے مطابق معرکہ حق میں پاکستانی افواج اور دفاعی صلاحیتوں نے دشمن کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کا کردار ادا کیا اور اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو کامیابی عطا کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس بڑی فوج، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع وسائل موجود تھے، لیکن اصل طاقت اللہ تعالیٰ کی ہے، جس نے پاکستان کی افواج کو کامیابی عطا کی۔

مولانا عبدالخبیر آزاد نے فیلڈ مارشل جنرل حافظ سید عاصم منیر، پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں کو پاکستان اور امت مسلمہ کے لیے باعث فخر قرار دیا۔

مزید پڑھیں:‘مکہ اتحاد برائے دفاع’ کا ہنگامی اجلاس: سعودی عرب کی سلامتی کے لیے مشترکہ دفاعی اقدامات کا باضابطہ آغاز

انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس حوالے سے پاکستان کی خدمات دنیا کے سامنے ہیں۔

سعودی عرب پر حملوں کے خلاف دفاعی اتحاد نے اہم کردار ادا کیا

چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے بعد سعودی عرب کے تحفظ کے لیے قائم اتحاد نے اہم کردار ادا کیا اور حرمین شریفین کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا مقابلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت مختلف مقامات کو نشانہ بنانے کے عزائم ناکام بنائے گئے اور حملہ آوروں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا اتحاد انتہائی اہم ہے اور اس کے ذریعے مخالف قوتوں کے عزائم کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔

حوثیوں کو مذاکرات کا موقع دینا چاہیے، ناکامی کی صورت میں دفاع ناگزیر ہوگا

سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں اور مذاکرات کی کوششوں سے متعلق سوال کے جواب میں مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ مسائل کا حل بات چیت اور صلح کے ذریعے تلاش کرنا چاہیے۔

انہوں نے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر مذاکرات اور صلح کے ذریعے مسئلہ حل ہوسکتا ہے تو اس راستے کو ضرور اختیار کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ حوثی تنہا ہوتے جارہے ہیں اور انہیں مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے، تاہم اگر وہ حملوں سے باز نہیں آتے اور بات چیت کی میز پر نہیں بیٹھتے تو پھر حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانا پڑے گا۔

مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا دفاع ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اور ضرورت پڑنے پر پاکستان، ترکیہ اور دیگر مسلم ممالک بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کا مؤقف پوری پاکستانی قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے اور اس معاملے میں قومی سطح پر یکجہتی برقرار رکھنا ضروری ہے۔

سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ خبریں اور انتشار پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے

انٹرویو کے دوران سوشل میڈیا پر مکہ دفاعی معاہدے کے خلاف چلنے والی مہمات اور بعض واقعات کو بنیاد بناکر پھیلائی جانے والی خبروں کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔

مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو کوئی بھی خبر یا مواد شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی غیر مصدقہ معلومات، جو معاشرے میں انتشار اور بدامنی کا سبب بن سکتی ہوں، انہیں آگے پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض عناصر سوشل میڈیا کو لوگوں کی کردار کشی، پگڑیاں اچھالنے اور غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جو انتہائی افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت، سیکیورٹی ادارے اور سائبر کرائم سے متعلق ادارے ایسے معاملات پر کارروائیاں کررہے ہیں، جبکہ پیمرا سمیت دیگر متعلقہ ادارے بھی اپنے دائرہ اختیار میں اقدامات کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، آپریشنل تفصیلات عوامی سطح پر شیئر نہیں ہوتیں: ترجمان پاک فوج

مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ حکومت نے ایسے اقدامات کی روک تھام کے لیے سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور متعلقہ قوانین کے تحت سزائیں بھی موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ متعدد مواقع پر کارروائی کے بعد لوگوں نے تحریری طور پر یقین دہانی کرائی کہ وہ آئندہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوں گے۔

نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی طرف لانا ہوگا

مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ سوشل میڈیا کے منفی استعمال کو روکنے کے لیے صرف قانونی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ معاشرتی آگاہی بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ منبر و محراب سے وابستہ علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوان نسل اور عوام میں شعور پیدا کریں تاکہ لوگ منفی مہمات اور انتشار پھیلانے والے مواد سے محفوظ رہ سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کو مثبت اور تعمیری مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ لوگ جمعے کے دن مبارک باد کے پیغامات، جمعے کی فضیلت، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ، قرآن کریم کی آیات اور دینی تعلیمات دوسروں تک پہنچاتے ہیں، جو سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی اچھی مثالیں ہیں۔

مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ قرآن کریم کی ہر آیت میں انسان کے لیے سبق موجود ہے اور اگر لوگ ان تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں اختیار کریں تو معاشرے میں مثبت تبدیلی آسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دین سے دوری کے بجائے دینی تعلیمات پر عمل کرکے اپنی زندگیوں کو بہتر بنانا چاہیے تاکہ منفی اور انتشار پسند قوتیں لوگوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کرسکیں۔

پاکستان کی ایٹمی صلاحیت پوری امت مسلمہ کے تحفظ کے لیے ہے

مکہ دفاعی معاہدے میں مزید اسلامی ممالک کی ممکنہ شمولیت سے متعلق سوال کے جواب میں مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا اتحاد پوری مسلم دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف اسلامی ممالک اس اتحاد میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کررہے ہیں، جبکہ شام کی جانب سے بھی اس حوالے سے مثبت مؤقف سامنے آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر تمام اسلامی ممالک ایک مشترکہ بلاک کی صورت میں متحد ہوجائیں تو وہ دنیا کی ایک بڑی قوت بن سکتے ہیں۔

مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلم ممالک کو بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے، جن میں تیل، سونا، دولت اور دیگر قیمتی وسائل شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر سمیت مختلف اسلامی ممالک دفاعی اور معاشی اعتبار سے اہم صلاحیتیں رکھتے ہیں، جنہیں مشترکہ مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دنیا کے سامنے اپنی فوجی طاقت اور دفاعی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔

مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ پاکستان اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت ہے اور دنیا کی ایٹمی طاقتوں میں بھی اہم مقام رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت صرف پاکستان کے اپنے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کی حفاظت کے لیے بھی ہے۔

اسلامی ممالک کا مشترکہ دفاعی بلاک ایک بڑی طاقت بن سکتا ہے

مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کا آغاز ایک ایسے اتحاد کی بنیاد رکھ سکتا ہے جس میں مستقبل میں مزید اسلامی ممالک شامل ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مخالف قوتیں کبھی نہیں چاہیں گی کہ مسلم ممالک ایک مضبوط اور متحد بلاک کی صورت اختیار کریں، کیونکہ اس سے عالمی سطح پر طاقت کا توازن تبدیل ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ماضی میں بعض ممالک نے دولت اور وسائل کے ذریعے اپنی سلامتی یقینی بنانے کی کوشش کی، لیکن مشکل وقت آنے پر انہیں مطلوبہ تعاون نہیں مل سکا۔

یہ بھی پڑھیں:حوثی ڈرون مکہ مکرمہ کی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کر دیا گیا

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں مسلم ممالک کو یہ حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کی اصل طاقت باہمی اتحاد، مشترکہ دفاع اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے میں ہے۔

مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ آج پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں اور اگر اس اتحاد میں مزید ممالک شامل ہوتے ہیں تو یہ ایک ایسی طاقت بن سکتا ہے جس کا مقابلہ کرنا کسی کے لیے آسان نہیں ہوگا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے وقت میں مزید اسلامی ممالک اس اتحاد کا حصہ بنیں گے اور امت مسلمہ مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے متحد ہوکر آگے بڑھے گی۔

نئے سعودی سفیر پاک سعودی تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے

انٹرویو کے دوران مولانا عبدالخبیر آزاد نے سعودی عرب میں پاکستان کے نئے سفیر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے سفیر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک مضبوط رابطے کا کردار ادا کریں گے اور دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو مزید فروغ دینے کا ذریعہ بنیں گے۔

مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ایمان، محبت اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں اور ان میں مزید مضبوطی دونوں ممالک کے ساتھ پوری امت مسلمہ کے لیے فائدہ مند ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp