ریاض: تیسری عالمی سربراہی کانفرنس برائے مصنوعی ذہانت کب منعقد ہوگی؟

جمعرات 5 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ریاض میں آئندہ ہفتے تیسری عالمی سربراہی کانفرنس برائے مصنوعی ذہانت منعقد کی جارہی ہے، اس کانفرنس میں مصنوعی ذہانت کے تیزی سے ترقی پذیر شعبے اور اس کے عالمی اثرات پر بات چیت کی جائے گی۔ کانفرنس کا مقصد عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا ہے۔

کانفرنس میں مختلف شعبہ جات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور اس کے ممکنہ فوائد پر روشنی ڈالی جائے گی، اس کا مقصد عوام، نجی اور سرکاری اداروں کو اس جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا مصنوعی ذہانت کے باعث اب کچھ بھی ایکسکلوسیو نہیں رہے گا، آپ کی اپنی آواز بھی؟

سعودی عرب کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت اتھارٹی (سدایا) نے حال ہی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق اصول وضوابط جاری کیے ہیں، جس میں حکومتی ڈیٹا کے استعمال کے حوالے سے شفافیت، پرائیویسی، اور ذمہ داری جیسے اہم اصول شامل ہیں۔

اس کے علاوہ، سدایا نے (اکیڈمی برائے مصنوعی ذہانت) کا بھی آغاز کیا ہے، جس کا مقصد قومی سطح پر مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے۔

کانفرنس میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ مصنوعی ذہانت کاروباروں کی کارکردگی، تحقیق، اور ملازمین کی پیداواریت میں بہتری لانے میں کس طرح معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کا سیاست اور سائبر حملوں میں استعمال، بل گیٹس نے خبردار کردیا

واضح رہے سعودی عرب اس کانفرنس کے ذریعے اپنے 2030ویژن کے مطابق مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی سطح پر اپنی قیادت کو مزید مضبوط کرنے کا خواہاں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب: کنگ فیصل اسپتال نے کڈنی پیئرڈ ڈونیشن ٹرانسپلانٹس میں عالمی اعزاز حاصل کر لیا

5جی اسپیکٹرم نیلامی مکمل: ٹیکنالوجی کا نیا میدان پاکستان کے لیے کون سے مواقع پیدا کر سکتا ہے؟

اسلام آباد میں یوم القدس: سیکیورٹی خدشات کے باعث کون سی سڑکیں بند، کون سے راستے کھلے؟

پیٹرول بچاؤ، الیکٹرک بائیکس چلاؤ: حکومت بلوچستان کی الیکٹرک بائیکس اسکیم سے بائیکس کیسے حاصل کی جا سکتی ہیں؟

لاڑکانہ، کشمور اور کندھ کوٹ کے سرکاری گوداموں سے 24 ہزار میٹرک ٹن گندم کیسے غائب ہوئی؟

ویڈیو

بادشاہی مسجد: فن اور تاریخ کا حسین امتزاج

روایتوں کے شہر میں نئی روایت: خواتین نے سنبھال لیا ٹریفک کا نظام

سورہ الکہف: آج کے فتنوں میں رہنمائی کا سر چشمہ

کالم / تجزیہ

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

ٹرمپ کے ممکنہ اہداف اور دم توڑتی امیدیں

ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت