آئینی ترمیم: اسپیکر قومی اسمبلی کا پرویز الٰہی سے رابطہ، پی ٹی آئی کو مذاکرات کیلئے کیا پیشکش کی؟

بدھ 25 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملکی سیاست میں آئینی ترامیم کا معاملہ ایک اہم ترین مسئلہ بن چکا ہے، حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی اس حوالے سے مصروف دکھائی دے رہے ہیں جبکہ حکومت بار بار یہ دعویٰ کررہی ہے کہ اس کے پاس آئینی ترامیم کو منظور کروانے کے لیے مطلوبہ اکثریت موجود ہے مگر اس کے باوجود 15 ستمبر کو طے شدہ شیڈول کے باوجود یہ کام نہیں ہوسکا ہے۔

اور اب دوبارہ آئینی ترامیم کی منظوری کے لیے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سر توڑ کوششیں کر رہی ہیں، ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے تحریک انصاف سے بات چیت کے لیے تیار ہیں اور اس ضمن میں بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آئینی ترمیم، شہباز شریف اور بلاول بھٹو کا فضل الرحمان کے تحفظات دور کرنے پر اتفاق

اس حوالے سے اسپیکر ایاز صادق کی سابق وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی سے گفتگو بھی ہوئی ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور حکومتی کابینہ کے اراکین کو ساتھ بٹھا کر اس آئینی ترمیم پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں، پرویز الہی نے اسپیکر کو اس حوالے سے پی ٹی آئی سے مشاورت کے بعد جواب دینے کا کہا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی 53 آئینی ترمیموں کے حق میں نہیں ہیں دونوں جماعتوں کا موقف ہے کہ جو متنازعہ ترامیم ہیں ان پر اتفاق رائے نہ ہو تو اچھا ہے، مگر وفاقی آئینی عدالت کے قیام سمیت بلوچستان میں اراکین کی تعداد بڑھانے سے متعلق آئینی ترامیم منظور کروائی جائیں۔

مزید پڑھیں:آئینی ترامیم بل پاس ہونا تو دور کی بات آئندہ کسی کی جرات نہیں کہ بل پیش کرے، علی امین گنڈا پور

ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سمجھتے ہیں کہ حکومت نے بغیر سوچے سمجھے قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس بلا لیا جس سے حکومت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اب آئینی ترمیم پاس کروانے کے حوالے سے وہ اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف وفاقی آئینی عدالت کی ترمیم پر ہی مان جائے اور جو  ان کے تحفظات ہیں وہ دور کر دیے جائیں تاکہ یہ آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور ہو، دوسری جانب مولانا فضل الرحمن کو قائل کرنے کا ٹاسک پیپلزپارٹی کو سونپا گیا ہے۔

پیپلزپارٹی بھی مولانا سے صرف وفاقی آئینی عدالتی پر ووٹ کی خواہاں؟

ذرائع نے بتایا کہ آئینی ترامیم منطور کروانے کی پہلی کوشش ناکام ہونے کے بعد بلاول بھٹو کی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات میں بلاول بھٹو نے مولانا فضل الرحمن کو صرف وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے حوالے سے ووٹ دینے کی دراخوست کی ہے، باقی متنازعہ ترامیم پر خود پیپلزپارٹی بھی اب بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کا قیام ان کے چارٹر میں شامل ہے اس لیے وہ اب اس محاذ پر سیاسی قیادت کر رہی ہے تاکہ تمام جماعتیں اس ایک آئینی ترمیم پر رضامند ہوجائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب نے پاکستان کو دیے گئے 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کی مدت میں مزید 3 سال کی توسیع کر دی

پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان 4 ٹیسٹ میچوں کی ہاکی سیریز کا پہلا مقابلہ آج اسلام آباد میں ہوگا

جاپان کے تعاون سے ایف آئی اے کی سرحدی نگرانی مزید مضبوط، جدید آلات اور گاڑیاں فراہم

پنجاب کی ترقی میں خواتین کا کردار ناقابلِ فراموش، یونیفارم صرف لباس نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے، مریم نواز

انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے قومی و عالمی تعاون ناگزیر، وزیراعظم اور صدر مملکت کا عالمی دن پر پیغام

ویڈیو

محدود وسائل میں عائشہ بلوچ نے بھارت کو کیسے چت کیا؟ باکسر کی متاثر کن کہانی

ایکشن کمیٹی نے الیکشن فارم سے ریاست پاکستان سے وفاداری کی شق نکالنے کا مطالبہ کیا، وزیر امور کشمیر امیر مقام

جسٹن گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں منفرد عالمی ریکارڈ قائم کرلیا، ’سہولت کار‘ پاکستان ٹیم

کالم / تجزیہ

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین