چمن میں سرحدی آمدورفت کے لیے پاسپورٹ کی شرط: یومیہ 7 ہزار کمانے والے ماہانہ 7 ہزار نہیں کما پارہے، مظاہرین

جمعہ 18 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان میں پاک افغان سرحدی شہر چمن میں گزشتہ برس سے احتجاج پر بیٹھے لغڑی یعنی ڈیلی ویجر اتحاد کے ترجمان صادق خان کا دعویٰ ہے کہ حکومت کی جانب سے سرحدی آمدورفت کے لیے شناختی کارڈ اور تذکرے کے نظام کے بجائے پاسپورٹ کو لازمی قرار دینے کے فیصلہ سے یکدم 30 ہزار سے زائد روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد متاثر ہوئے لیکن حکومت کے کان پر جون تک نہ رینگی۔

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے پرلت یعنی دھرنا کمیٹی کے اس احتجاج کے روح رواں صادق خان نے کہا کہ ون پوائنٹ ایجنڈے پر ہم گزشتہ برس 21 اکتوبر سے احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں، اس دھرنے کو ایک سال مکمل ہوا چاہتا ہے لیکن حکومت ہمارے مطالبے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ ’حکومتی بے حسی کے سبب 30 ہزار سے زائد مقامی افراد ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیں: چمن: پاک افغان بارڈر پر پاسپورٹ اور ویزا پالیسی کے خلاف پھر دھرنا شروع

رواں برس جولائی میں حکومت اور مظاہرین کے درمیان سابق نگراں وزیر عنایت اللہ نے ثالث بن کر مذاکرات کروائے جس میں حکومت نے مظاہرین کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے سابقہ نظام پر آمدورفت کو بحال کردیا تھا، تاہم صرف 3 روزہ عملدرآمد کے بعد حکومت نے پاک افغان سرحد پاسپورٹ کے بغیر عبور کرنے پر پابندی عائد کردی۔

’جس کے بعد ہم نے دوبارہ پاک افغان قومی شاہراہ پر دھرنا دے دیا، جس کا سلسلہ جاری ہے، اس ایک حکومتی فیصلے نے ہزاروں خاندانوں کو متاثر کیا ہے، نوبت اب یہاں تک آن پہنچی ہے کہ دھرنا چھوڑ کر لوگ اب دوسرے شہروں کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔‘

مزید پڑھیں: چمن میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کی اصل حقیقت کیا ہے؟

صادق خان کے مطابق جہاں بعض ڈیلی ویجر 7 ہزار روپے ماہانہ پر چھوٹے موٹے کام کر رہے ہیں وہیں ان میں بیشتر نان شبینہ کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں، پاسپورٹ یعنی ویزے کی شرط کے اس فیصلے نے چمن اور اسپن بولدک کی کراسنگ کے دونوں جانب بسے خاندانوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔

چمن سے تعلق رکھنے سینیئر صحافی ستار خوندئی نے وی نیوز کو بتایا کہ ایک سال کے دوران بڑی تعداد میں یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے افراد یعنی لغڑی روزگار کی تلاش میں دیگر علاقوں کو کوچ کر گئے ہیں جبکہ باقی ماندہ لغڑی دھرنے میں امید کی کرن پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: چمن میں احتجاج اور سرحد کی بندش سے تجارت کیسے متاثر ہورہی ہے؟

’فیس جمع نہ کروانے کے سبب لغڑیوں نے اپنے بچوں کا تعلیمی سلسلہ بھی منقطع کردیا ہے اور اب یہ اپنے بچوں کے ہمراہ اس دھرنے میں شریک ہیں۔ دھرنے میں شریک مظاہرین کے لیے کئی بار دھرنا کمیٹی کی جانب سے چندہ جمع کرکے دو وقت کی روٹی کا انتظام کیا جارہا ہے۔‘

کئی مخیر حضرات بھی دھرنے میں شریک ان ڈیلی ویجرز کی مدد کررہے ہیں، ایک سال کے دوران ان بے روزگار افراد کے لیے نہ تو روزگار کا بندوبست کیا جاسکا ہے اور نہ ہی کسی نے ان کے زخموں پر مرہم رکھا، ایسے میں یہ لوگ بے بسی کی تصویر بنے دھرنے میں روزانہ پہنچ جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ہمارے ساتھ 9 مئی میں ملوث عناصر جیسا سلوک کیا جارہا ہے، چمن مظاہرین

دھرنے سے ہجرت کرنے جانے والے جمعہ خان نے اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ حکومتی فیصلے سے قبل روزانہ کی بنیاد پر پاکستان سے اشیا ضرورت خرید کر افغانستان میں فروخت کیا کرتا تھا، جس سے روزانہ 3 سے 4 ہزار روپے بچ جایا کرتے تھے لیکن اس کے بعد سرحد پر پاسپورٹ کی شرط لاگو کرنے سے کاروبار مکمل طور پر ختم ہوگیا تھا۔

’9 ماہ تک دھرنے میں شریک رہا لیکن ایسے میں گھر پر فاقوں کی نوبت آگئی، اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنے کے لیے گھر والوں کو خدا کے سپرد کرکے کراچی کی جانب کوچ کر گیا جہاں ایک جانے والے کے قہوہ خانے پر اس وقت چائے بنانے کا کام کر رہا ہوں۔‘

مزید پڑھیں: چمن میں حکومت اور مظاہرین کے درمیان معاملات کیوں حل نہیں ہو پارہے؟

جمعہ خان کے مطابق پہلے وہ ماہانہ ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے بآسانی کما لیا کرتے تھے لیکن اب صرف 30 ہزار کی تنخواہ میں زندگی کی گاڑی کو دھکا دینا پڑرہا ہے جبکہ گھر سے دوری نے ان کی دیگر دشواریوں میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد کی خواتین کے لیے مفت اسکوٹی ٹریننگ پروگرام کا اعلان

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں