لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کا حتمی فیصلہ کرنے سے روک دیا

ہفتہ 19 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) انٹرا پارٹی الیکشن اور بلے کا انتخابی نشان الاٹ نہ کرنے کے خلاف درخواست کا تحریری حکم جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کا حتمی فیصلہ کرنے سے روک دیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور بلے کا انتخابی نشان الاٹ نہ کرنے کے خلاف درخواست کا تحریری حکم جاری کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کروا لیتی تو مخصوص نشستوں کا مسئلہ ہی نہ ہوتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

عدالت نے الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کا حتمی فیصلہ کرنے سے روک دیا ہے۔ تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے کیس ملتوی کرنے کی استدعا کی، اسٹنٹ اٹارنی جنرل آئندہ سماعت پر تحریری بیان جمع کرائیں۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق 30 اپریل 2024 کے نوٹس پر حتمی فیصلہ نہ کرے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کردی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘