پی ٹی آئی احتجاج: راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس بند کرنے کا فیصلہ

جمعہ 22 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے احتجاج کی کال کے پیش نظر جڑواں شہروں میں چلنے والی میٹرو بس سروس بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق راولپنڈی صدر تا پاک سیکریٹریٹ اسٹیشن تک چلنے والی میٹرو بس سروس 24 نومبر کو بند رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں پی ٹی آئی احتجاج: پشاور، لاہور موٹروے سمیت تمام ٹرانسپورٹ اڈے بند کرنے کا حکم

ضلعی انتظامیہ نے ذمہ داران کو ہدایت کی ہے کہ احتجاج کے پیش نظر میٹرو بس سروس مکمل بند رکھی جائے۔

دوسری جانب میٹرو بس سروس کے ٹریک کی مرمت کے پیش نظر 28 نومبر سے یکم دسمبر تک میٹرو بس سروس کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں شہریوں کو مشکلات کا سامنا؛ میٹرو بس سروس کب بحال ہوگی؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق 28 نومبر سے یکم دسمبر تک میٹرو بس سروس صدر اسٹیشن سے فیض آباد تک بند کی جائے، تاہم فیض آباد سے پاک سیکریٹریٹ تک بس سروس چلتی رہے گی، اور 2 دسمبر سے مکمل بحال کردی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کالعدم ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کا زخمی ہونے کا جعلی ڈرامہ، پولیس کے قریب آتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے

میرپور ڈویژن میں کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری عوام مسلم لیگ ن پر اعتماد کرتی ہے، نواز شریف

گندھارا تہذیب کے اسمگل شدہ 513 نوادرات پاکستان کو واپس مل گئے

ایکشن کمیٹی دہشتگردی پر اتر آئی، آزاد کشمیر میں قیام امن کے لیے حکومت کی ہرممکن مدد کریں گے، وفاقی حکومت

مجھے نیتن یاہو کی فراہم کردہ معلومات کی ضرورت نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو آڑے ہاتھوں لے لیا

ویڈیو

مجھے نیتن یاہو کی فراہم کردہ معلومات کی ضرورت نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو آڑے ہاتھوں لے لیا

آزاد کشمیر: انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام، مسلم لیگ ن نے پہلے مرحلے میں میدان مار لیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے اچھی بات چیت کا اعتراف، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی