کوہلو سے تعلق رکھنے والے گریڈ 18 کے زراعت آفیسر مہر گل مری کو لاپتا ہوئے 11 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ اہلخانہ کے مطابق مہر گل مری ستمبر 2015 سے لاپتا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ماہرنگ لانگو کا مذاکرات سے انکار، حقائق نے دعوے کی قلعی کھول دی
ذرائع کے مطابق مہر گل مری کوئی بے روزگار نوجوان نہیں بلکہ ایک مستحکم سرکاری نوکری پر تعینات افسر تھے اور ان کی خاندانی ذمہ داریاں کوئٹہ میں تھیں۔ ایسے میں ان کے حوالے سے صرف ایک ہی کہانی کو دہرانا حقائق کے منافی ہے۔
علاقائی صورتحال پر نظر رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ کوہلو اور ملحقہ اضلاع میں صورتحال ہمیشہ سے پیچیدہ رہی ہے۔ ان علاقوں میں کچھ افراد پہاڑوں میں موجود دہشتگرد گروہوں میں شامل ہو جاتے ہیں جبکہ بعض واقعات میں ذاتی اور قبائلی وجوہات بھی سامنے آتی ہیں جو عام طور پر عوامی مہمات میں بیان نہیں کی جاتیں۔
11 سال تک ایک ہی بیانیے کو احتجاج اور ہیش ٹیگز کے ذریعے زندہ رکھنے سے دیگر ممکنہ پہلوؤں اور اس دور کی سیکیورٹی صورتحال کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
متعلقہ حلقوں کا مؤقف ہے کہ خاندانوں کو وضاحت ملنا ضروری ہے لیکن وضاحت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ یہ تسلیم کیا جائے کہ ہر لاپتا فرد کا کیس ایک ہی طرز پر نہیں ہوتا۔
مزید پڑھیے: ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
انصاف کا راستہ مسلسل ایک ہی کہانی دہرانے سے نہیں بلکہ مکمل تصویر دیکھنے سے نکلتا ہے جس میں متعلقہ فرد کا سرکاری عہدہ اور وہ ماحول بھی شامل ہے جس میں وہ رہ رہا تھا۔














