بیوٹی فلٹر کے استعمال کے حوالے سے ٹک ٹاک کا اہم فیصلہ

بدھ 27 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹک ٹاک نے 18 سال سے کم عمر صارفین کو بیوٹی فلٹر کے استعمال سے روکنے کے لیے پابندیوں کا اطلاق کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ جلد ہی 18 سال سے کم عمر صارفین کو اپنی خوبصورتی اور کسشش بڑھانے والے ایفیکٹس کے استعمال سے روکا جائے گا۔ اس تبدیلی کا مقصد کم عمر افراد کو ذہنی صحت کے مسائل سے بچانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: والدین کس طرح بچوں کو ٹک ٹاک سے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟

بیوٹی فلٹر تصاویر ریئل ٹائم ویڈیو پر لگایا جاتا ہے تاکہ جسمانی کشش کو بڑھایا جا سکے۔ اس طرح کے فلٹرز کے عام ایفیکٹس میں جلد کی ساخت کو ہموار کرنا اور آنکھوں کو بڑا یا ناک کو تنگ کرنا بھی شامل ہیں۔ ٹک ٹاک پر فراہم کیا گیا یہ ابرو اٹھانے والا ایک نیا فیس فلٹر ہے۔ ’بولڈ گلیمر‘ نامی یہ فلٹر کسی کو بھی سپر ماڈل بنا دیتا ہے۔

تاہم کمپنی کے مطابق عمر پر پابندی کا اطلاق ایسے فلٹرز پر نہیں ہوگا جن کو تفریحی مقاصد کے لیے تیار کیا گیا ہوگا۔

ٹک ٹاک کمپنی ایسی مشین لرننگ ٹیکنالوجیز بھی استعمال کرے گی جو 13 سال سے کم عمر بچوں کے اکاؤنٹس کو شناخت کرنے میں معاون ثابت ہوسکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر

پاکستان اور امریکا کی توانائی میں شراکت داری، گرین الائنس سے قابل تجدید توانائی کا فروغ

خطے میں کشیدگی کے تناظر میں خارجہ پالیسی سے متعلق تبصروں میں احتیاط برتنا چاہیے، وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس

ملک بھر میں ’کفایت شعاری اور ایندھن بچاؤ‘ اقدامات کے فوری نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری

ٹی 20 ورلڈ کپ جیتنے پر بھارتی کرکٹ بورڈ نے ٹیم کے لیے ریکارڈ انعامی رقم کا اعلان کردیا

ویڈیو

لاہور میں ملک کی پہلی سمارٹ روڈ روٹ 47 کی خصوصیات کیا ہیں؟

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

کالم / تجزیہ

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟