کتنے فیصد ڈیجیٹل تخلیق کار غیرمصدقہ خبریں پھیلاتے ہیں، یونیسکو کا منفرد سروے

جمعرات 28 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے یونیسکو کے ایک تازہ سروے کے مطابق دنیا بھر کے 62 فیصد ڈیجیٹل تخلیق کار انٹرنیٹ پر معلومات شیئر کرنے سے پہلے ان کی تصدیق نہیں کرتے۔

یہ یونیسکو کی جانب سے کیا جانے والا دنیا کا پہلا ایسا سروے ہے جو ڈیجیٹل تخلیق کاروں کے کام کے عمل کو سمجھنے کے لیے کیا گیا ہے۔

اس سروے میں دنیا کے 45 ممالک سے 500 تخلیق کاروں سے بات کی گئی اور اس عمل میں امریکا کی بولنگ گرین اسٹیٹ یونیورسٹی سے محققین کی ٹیم بھی شامل تھی۔

یہ بھی پڑھیں: فیک نیوز انڈسٹری سے متعلق حیران کن انکشافات، فیک نیوز کا تدارک کیسے کریں؟

انٹرنیٹ کی اصطلاح میں ’کونٹینٹ کرئیٹر‘ کہلائے جانے والے ڈیجیٹل تخلیق کار موجودہ دور میں دنیا بھر میں معلومات کی ترسیل کا ایک اہم ذریعہ بن چکے ہیں اور ان کی فراہم کردہ معلومات کے لوگوں پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

فیکٹ چیکنگ کا فقدان، تخلیق کار معلومات کی صداقت کس طرح جانچتے ہیں؟

اس سروے میں یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ ان تخلیق کاروں کو معلومات کی تصدیق کے پیمانے یا معیار کا تعین کرنے میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔

ان میں سے 42 فیصد لوگ سوشل میڈیا پر پوسٹ کے لائک اور شیئر کی تعداد کو اس کی صداقت کا اہم معیار سمجھتے ہیں جبکہ 21 فیصد لوگ اپنے دوستوں کے شیئر کیے گئے مواد پر بھروسہ کرتے ہوئے اسے اپنے اکاؤنٹس پر ڈال دیتے ہیں۔ اسی طرح 19 فیصد تخلیق کاروں کا یہ کہنا تھا کہ وہ معلومات کے مرکزی مصنف کی شہرت کی بنیاد پر اس کی سچائی کو پرکھتے ہیں۔

مزید پڑھیے: برطانوی نسلی فسادات اور فیک نیوز

لیکن اس سروے میں 73 فیصد تخلیق کاروں نے معلومات کی تصدیق کرنے کی مہارت کو سیکھنے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔ اس ضمن میں صحافی ڈیجیٹل تخلیق کاروں کے اہم معاون ثابت ہو سکتے ہیں مگر ان دونوں پیشوں میں تاحال کوئی گہرا تعلق قائم نہیں ہو سکا۔

عام میڈیا اب بھی ڈیجیٹل تخلیق کاروں کے لیے معلومات کا تیسرا بڑا ذریعہ ہے اور وہ زیادہ تر میڈیا کی معلومات پر اپنے تجربات اور تحقیق کر ترجیح دیتے ہیں۔

59 فیصد ڈیجیٹل تخلیق کار اپنے حقوق و قوانین سے لاعلم

اس سروے میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ 59 فیصد ڈیجیٹل تخلیق کار اپنے حقوق اور بین الاقوامی قوانین سے لاعلم ہیں۔

تمام تخلیق کاروں میں سے صرف 56 فیصد ایسے پروگرامز کے بارے میں جانتے ہیں جو ان کی تربیت کے لیے بنے ہیں اور ان میں سے بھی صرف 13.9 فیصد نے ایسے کسی تربیتی پروگرام میں شرکت کی ہے۔

مزید پڑھیں: معاشرتی اور معاشی پستی کی ذمہ دار فیک نیوز بھی ہے

یہ لاعلمی انہیں قانونی خطرات سے دوچار کرتی ہے اور ان کے حقوق کے دفاع میں رکاوٹ بھی بن سکتی ہے۔

تقریباً 32 فیصد تخلیق کاروں نے بتایا کہ انہیں نفرت انگیز مواد کا سامنا ہوا لیکن صرف 20 فیصد نے اس کے خلاف شکایت درج کی۔

یونیسکو نے اس خلا کو ختم کرنے کے لیے دنیا کا پہلا عالمی تربیتی کورس شروع کیا ہے جس میں 160 ممالک کے 9 ہزار افراد حصہ لے رہے ہیں۔ یہ کورس تخلیق کاروں کو معلومات کی تصدیق، مستند مواد کی تشہیر اور غلط معلومات کی نشاندہی کی تربیت فراہم کرے گا۔

یونیسکو کے مطابق یہ کورس ڈیجیٹل دنیا میں تخلیق کاروں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور عالمی سطح پر معلومات کی شفافیت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ورک فرام ہوم، سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں کمی، خیبرپختونخوا نے بھی اہم فیصلے کرلیے

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان