ضلع کرم میں قبائل کے درمیان فائربندی، مورچوں پر فورسز اور پولیس کے دستے تعینات

اتوار 1 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں 2 قبائل کے درمیان جھڑپوں میں 130 افراد کے جاں بحق ہونے کے بعد فائربندی پر اتفاق ہوگیا۔

ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود نے بتایا ہے کہ متحارب قبائل کے درمیان فائر بندی پر اتفاق کے بعد مورچوں سے مسلح قبائل کو ہٹا کر وہاں فورسز اور پولیس کے دستے تعینات کردیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر حملہ: ’ایسے نشانہ بنایا گیا جیسے چن چن کر ہمیں مار رہے ہوں‘

ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ اب راستے کھولنے اور امن معاہدے کے لیے جرگہ ممبران عمائدین سے بات چیت کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ کوہاٹ ڈویژن کے عمائدین اور پارلیمنٹرینز امن معاہدے کے لیے ضلع کرم آئیں گے۔

یاد رہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر حملے اور اس کے بعد کئی روز سے جاری جھڑپوں کے نتیجے میں 130 افراد جاں بحق اور 186 زخمی ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ضلع کرم میں امن و امان کے لیے وفاق سے ایف سی کی پلاٹونز مانگ لیں

گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کوہاٹ میں جرگہ عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے انہیں مینڈیٹ دیا تھا کہ وہ امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں گالیوں کی انوکھی دنیا، کبھی یہی الفاظ جیل پہنچا دیا کرتے تھے

ایل پی جی سیکٹر پر چند افراد کی اجارہ داری ختم کردی، مسابقت سے قیمتیں کم ہوں گی، علی پرویز ملک

مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائیوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تجاوزات کے خلاف مہم جاری رہے گی، طلال چوہدری

انٹرنیٹ پر نئے صارفین کو لوٹنے کے لیے فراڈیے تیار، خود کو محفوظ کیسے رکھیں؟

پیٹرول کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز بڑی کمی، 6 نومبر کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا

ویڈیو

بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے گئے بیوٹمز یونیورسٹی کے 51اساتذہ واپس کیوں نہیں آئے؟

عمران خان کن رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے؟ عمار مسعود اہم خبریں سامنے لے آئے

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟