کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں گالیوں کی انوکھی دنیا، کبھی یہی الفاظ جیل پہنچا دیا کرتے تھے

جمعرات 5 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فرانسیسی زبان کی ایک قسم بولنے والے کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں گالیوں کا ایسا منفرد ذخیرہ موجود ہے جسے دنیا کے سب سے رنگا رنگ اور وسیع ذخائر میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں عام طور پر مذہبی اصطلاحات سے نکلی ہوئی گالیاں روزمرہ گفتگو کا حصہ ہیں لیکن ماضی میں یہی الفاظ بولنے پر لوگوں کو جرمانے اور قید کی سزا بھی ہو سکتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: نارڈک ممالک کی زبانوں میں ’پلیز‘ کا متبادل کیوں نہیں؟ کیا وہاں لوگ کم مہذب ہیں؟

کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں گالیاں دینا محض غصے کے اظہار کا طریقہ نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی، مذہبی اور ثقافتی پس منظر بھی رکھتا ہے۔

یہاں فرانسیسی زبان بولنے والے افراد کی گالیوں میں ایسے الفاظ شامل ہیں جن کی اصل  مذہب اور رسومات سے جڑی ہوئی ہے۔ ان گالیوں کو مقامی زبان میں ’ساکر‘ کہا جاتا ہے۔

بظاہر یہ الفاظ مذہبی اصطلاحات معلوم ہوتے ہیں لیکن غصے یا شدید ردعمل کے اظہار کے لیے استعمال ہوں تو ان کا مفہوم انگریزی زبان کی انتہائی سخت گالیوں جیسا ہو جاتا ہے۔

کیوبیک کی مقامی زبان کے محقق ژاں پیئر پشیٹ نے سنہ 1980 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’لی گائیڈ ریزونے دے ژوروں‘ میں ایسی تقریباً 1800 گالیوں کا اندراج کیا تھا۔ بعض ماہرین لسانیات کے مطابق اب ان کی تعداد 2000 کے قریب پہنچ چکی ہے۔

کیوبیک سٹی کے ایک تعلیمی ادارے سیژپ گارنو میں تدریس سے وابستہ اور کتاب ’لی ساکر دو کیبیک‘ کے مصنف ژاں فرانسوا ژوبر اس ذخیرے کو گالیوں کا ’ایمازون کا جنگل‘ قرار دیتے ہیں جہاں الفاظ کی بے پناہ اقسام اور رنگا رنگی موجود ہے۔

کیوبیک آنے والے سیاح بھی ان الفاظ سے اکثر واقف ہو جاتے ہیں۔ جاز کلبوں، ہاکی کے مقابلوں اور سڑکوں پر ہونے والی گفتگو میں یہ الفاظ سنائی دے سکتے ہیں۔ کیوبیک سٹی اور مونٹریال کی بعض دکانوں میں ایسے جملوں والی ٹی شرٹس بھی فروخت ہوتی ہیں جن کا مطلب کسی بات سے شدید لاتعلقی یا بے پروائی کا اظہار ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے: بیرونی ممالک سے لوٹنے پر کچھ لوگ لہجہ، لباس اور عادتیں کیوں بدل لیتے ہیں؟

تروآ ریویئرز شہر کے میوزیم پاپ کی ڈائریکٹر جنرل مشیل بیلانژے کے مطابق یہ الفاظ وہاں کی زندگی کا اہم حصہ ہیں اور کیوبیک کی تاریخ، ثقافت اور شناخت سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

وہ گالیاں جن پر کبھی جیل ہو سکتی تھی

کیوبیک میں ان گالیوں کی ابتدا کا درست تعین مشکل ہے کیونکہ ایک طویل عرصے تک لوگ انہیں بولتے تو تھے لیکن تحریری شکل میں درج نہیں کرتے تھے۔ تاہم تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ فرانسیسی نوآبادیاتی دور میں مذہب کی توہین یا مقدس اصطلاحات کا بے حرمتی کے انداز میں استعمال غیرقانونی تھا۔

فرانسیسی نوآبادیاتی علاقے نیو فرانس میں مذہب کی توہین پر سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ مقامی محقق ژاں پیئر پشیٹ کے مطابق پہلی خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا تھا جب کہ تیسری مرتبہ ایسا کرنے پر ایک ماہ قید کی سزا بھی ہو سکتی تھی۔

ژوبر کے خیال میں ان گالیوں کی جڑیں فرانس کے ان شہروں سے آنے والے تارکین وطن تک پہنچتی ہیں جہاں ماضی میں پروٹسٹنٹ مذہبی اثرات نمایاں تھے لیکن بعد میں وہاں کے لوگوں کو زبردستی کیتھولک مذہب اختیار کرنا پڑا۔

ان کے مطابق اگرچہ یہ لوگ بظاہر کیتھولک تھے لیکن ان کے علاقوں میں مذہبی کشیدگی اور تنازعات کی تاریخ موجود تھی۔ نیو فرانس میں مذہبی ادارے بھی معاشرتی زندگی میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے اس لیے ممکن ہے کہ ابتدائی آبادکار ان کے اثر و رسوخ سے ناخوش ہوں۔ اس تناظر میں مذہبی اصطلاحات کو گالی کے طور پر استعمال کرنا چرچ کی طاقت کو چیلنج کرنے کا ایک طریقہ بن گیا۔

مزید پڑھیں: ہوٹل میں بہتر کمرہ چاہیے تو عملے سے کیسا برتاؤ کریں، کونسی غلطیاں نہ کی جائیں؟ ماہر کے دلچسپ مشورے

تاہم تمام مؤرخین ان الفاظ کی ابتدا سے متعلق ژوبر کی تشریح سے اتفاق نہیں کرتے۔ اس کے باوجود اس بات پر عمومی اتفاق پایا جاتا ہے کہ 19ویں صدی کے بعض واقعات نے کیوبیک میں گالیوں کے استعمال کو مزید فروغ دیا۔

مذہبی اثر و رسوخ کے خلاف مزاحمت

سنہ1837  اور سنہ 1838 میں برطانوی افواج نے فرانسیسی زبان بولنے والے قوم پرستوں کی 2 مسلح بغاوتوں کو کچل دیا تھا۔ ان واقعات کے بعد کیتھولک چرچ نے تعلیم سے لے کر صحت کی سہولتوں تک، معاشرے کے مختلف شعبوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا لیا۔

یونیورسٹی آف کیوبیک آ تروا ریویئرز کے پروفیسر ایمریٹس اور مؤرخ رینے ہارڈی کے مطابق سنہ 1840 کی دہائی سے کیتھولک مذہب عوامی زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں نمایاں ہو گیا تھا۔ چرچ کے اس بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف ردعمل نے مذہبی اصطلاحات کو گالیوں کے طور پر استعمال کرنے کے رجحان کو بھی تقویت دی۔

ہارڈی کے مطابق سنہ 1886 میں بشپوں کے ایک اجلاس میں ان گالیوں کے استعمال کو فرانسیسی کینیڈین معاشرے کا سب سے بڑا گناہ قرار دیا گیا تھا۔

بعد ازاں سنہ 1960 کی دہائی میں کیوبیک کے لوگوں نے معاشرتی زندگی میں چرچ کی سخت مداخلت کو مسترد کرنا شروع کیا۔ اس دور میں ایک بڑی سماجی تبدیلی رونما ہوئی جسے ’خاموش انقلاب‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں صوبہ تیزی سے سیکولر معاشرے کی طرف بڑھا اور مذہبی اداروں کا اثر کم ہونے لگا۔

اسی دور میں یہ گالیاں فرانسیسی زبان بولنے والے کیوبیک کے لوگوں کے لیے ایک دوسرے سے جڑنے اور اپنی الگ ثقافتی شناخت برقرار رکھنے کا ذریعہ بھی بن گئیں۔ یہ شناخت ایک ایسے ملک میں خاص اہمیت رکھتی تھی جہاں انگریزی بولنے والی اکثریت کے مقابلے میں فرانسیسی بولنے والوں کی زبان اور ثقافت اکثر خود کو کم نمایاں محسوس کرتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: جھکنا صرف سلام نہیں ہوتا: جاپانی باڈی لینگویج کے ان کہے اصول

بنگھیمٹن یونیورسٹی میں لسانیات کی ایسوسی ایٹ پروفیسر یولیا بوسورتھ کیوبیک کی فرانسیسی زبان کی محقق ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ سنہ 1960 کی دہائی میں ان الفاظ کا مذہبی مفہوم بڑی حد تک ختم ہو گیا لیکن ان میں ایک باغیانہ اور ثقافتی اہمیت پیدا ہو گئی جو آج بھی برقرار ہے۔

ان کے مطابق یہ گالیاں اب کیوبیک کی لسانی شناخت کی سب سے نمایاں اور پہچانی جانے والی خصوصیات میں شمار ہوتی ہیں۔

گالیوں کے الفاظ سے نئے جملے بنانے کا فن

بوسورتھ کے اندازے کے مطابق دنیا میں تقریباً 7 ہزار زبانوں میں سے گالیوں کی اقسام اور تنوع کے لحاظ سے کیوبیک کی فرانسیسی زبان پہلے 25 بلکہ ممکنہ طور پر پہلے 10 نمبروں میں شامل ہو سکتی ہے۔

ان الفاظ کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ انہیں مختلف انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ اسم، صفت، فعل اور متعلقہ دیگر لسانی صورتیں اختیار کر لیتے ہیں۔ ایک ہی لفظ مختلف جملوں میں مختلف مفہوم دے سکتا ہے اور بولنے والا اپنی ضرورت کے مطابق نئے فقرے بھی تشکیل دے سکتا ہے۔

مونٹریال میں مقیم اداکار اور یوٹیوبر نِر گوزنسکی ان گالیوں کو آپس میں جوڑنے کے عمل کا موازنہ فرنیچر جوڑنے سے کرتے ہیں جیسے کسی کو مختلف حصے ملا کر ایک مکمل چیز تیار کرنا ہو۔ ان کے مطابق کئی مذہبی اصطلاحات کو ایک ساتھ جوڑ کر طویل اور پیچیدہ گالیاں بنائی جا سکتی ہیں۔

انگریزی زبان میں بھی بعض گالیوں کو مختلف انداز میں استعمال کر کے نئے جملے بنائے جاتے ہیں لیکن کیوبیک کی فرانسیسی زبان میں یہ تخلیقی صلاحیت غیرمعمولی حد تک پہنچ چکی ہے۔

سیاحوں کے لیے گالیوں کا مختصر تعارف

کیوبیک کی ثقافت اور فرانسیسی زبان سیکھنے والے افراد کے لیے ان الفاظ سے واقفیت خاصی اہم ہو سکتی ہے کیونکہ یہ وہاں روزمرہ گفتگو میں سنائی دیتے ہیں۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ انہیں ہر جگہ اور ہر شخص کے سامنے استعمال کرنا مناسب نہیں۔

مونٹریال میں زبان سکھانے والے فریڈرک پاتونو، جو ’کیوبیک فرانسیسی پوڈکاسٹ‘ کے میزبان اور کتاب ’کیوبیک فرانسیسی برائے مبتدی‘ کے مصنف ہیں اپنے طلبہ کو ان الفاظ سے متعارف تو کراتے ہیں لیکن ان کے استعمال میں احتیاط کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جو افراد ان گالیوں کے نرم متبادل استعمال کرنا چاہتے ہیں جو اصل گالی کا تاثر تو دیتے ہیں لیکن نسبتاً کم سخت سمجھے جاتے ہیں۔

ژوبر کے مطابق اگر کوئی سیاح کیوبیک پہنچتے ہی ہر شخص کے سامنے سخت گالیاں استعمال کرنا شروع کر دے تو یہ اچھا تاثر نہیں ہوگا۔ تاہم درست موقعے اور مناسب شخص کے ساتھ ان الفاظ کا ہلکا پھلکا استعمال مقامی لوگوں سے گھلنے ملنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: چھٹیوں سے زیادہ سکون کیسے حاصل کریں؟ ماہرین نے خوشگوار سفر کے 4 آسان راز بتا دیے

ان کا کہنا ہے کہ کیوبیک کی ثقافت میں دلچسپی رکھنے والے کسی شخص کے لیے ان الفاظ کو سمجھنا وہاں کے لوگوں اور ان کی شناخت سے واقف ہونے کا ایک دلچسپ راستہ ہے

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp