جنت مرزا نے سنیما کے مقابلے میں ٹک ٹاک کا انتخاب کیوں کیا؟

ہفتہ 21 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنت مرزا پاکستان کی مقبول ترین ٹک ٹاکر ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ انہوں نے سنیما کے مقابلے میں ٹک ٹاک کا انتخاب کیا تھا۔ ان کے انسٹا گرام پر 10 ملین سے زیادہ فالوورز ہیں۔ انہوں نے ’تیرے باجرے دی راکھی‘ سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا تھا جو فلاپ ہو گئی تھی۔

ایک تازہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل سنیما جانا نہیں چاہتی کیونکہ وہ آرام سے اپنے گھر میں موبائل استعمال کرنا پسند کرتی ہے۔ جبکہ سنیما کے ٹکٹس مہنگے ہیں جسے ایک شخص پوری فیملی کے لیے خریدنا افورڈ نہیں کرسکتا۔

مزید پڑھیں: ٹک ٹاک کی ملکہ جنت مرزا نے جاپان میں اپنی سالگرہ کیسے منائی؟

جنت مرزا کا کہنا تھا کہ ویسے بھی آج کے نوجوان گھر میں رہ کر ٹک ٹاک کے ذریعے اسکرول کرنا چاہتے ہیں اور جب چاہیں وہاں مجھے دیکھ سکتے ہیں۔ اس لیے وہ سنیما پر ٹِک ٹاک کے انتخاب کو ترجیح دیتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے ٹک ٹاک شروع کیا تو وہ کرینگ ویڈیوز بناتی تھیں۔ اس وقت ٹرینڈ ویڈیوز کا تھا اور انہیں ٹھیک سمجھا جاتا تھا۔ ویوز بھی اس پر زیادہ آتے تھے لیکن اب ٹڑینڈ بدل چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لکی مروت میں پولیس کی بڑی کارروائی، خودکش بمبار سمیت فتنہ الخوارج کے 2 دہشتگرد ہلاک، ایک زخمی فرار

امریکی وسط مدتی انتخابات، ٹرمپ کا انتہا پسند بائیں بازو کو روکنے کا عزم

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

ملک و قوم کی حفاظت کرنے والے سیکیورٹی اداروں کے خلاف بات کرنا ماں کو گالی دینے کے مترادف ہے، جہاں آرا وٹو

گرین لینڈ کی پارلیمنٹ نے امریکا اور ڈنمارک کے ساتھ آرکٹک سیکیورٹی معاہدے کی منظوری دیدی

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا