گرین لینڈ کی پارلیمنٹ نے امریکا اور ڈنمارک کے ساتھ آرکٹک سیکیورٹی معاہدے کی منظوری دیدی

بدھ 4 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈنمارک کے نیم خودمختار علاقے گرین لینڈ کی پارلیمنٹ نے آرکٹک اور شمالی بحرِ اوقیانوس میں سیکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے امریکا اور ڈنمارک کے ساتھ سہ فریقی معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔

منگل کے روز ہونے والی ووٹنگ میں معاہدے کے حق میں 16 ووٹ ڈالے گئے، جبکہ 7 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا اور غیر حاضر رہنے کے بجائے ووٹنگ سے گریز کیا۔

یہ معاہدہ گزشتہ ستمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن اور گرین لینڈ کے وزیراعظم جینز فریڈرک نیلسن نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دستخط کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا گرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کرنے کا اعلان

معاہدے پر پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول حاصل کرنے کے بار بار اظہارِ خواہش کے باعث خطے میں کشیدگی پائی جاتی ہے، اس معاہدے سے قبل کئی ماہ تک پس پردہ مذاکرات جاری رہے۔

گرین لینڈ کے وزیر خارجہ میوٹ ایگیڈے نے معاہدے کی توثیق کو خودمختار جزیرے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس مرحلے تک پہنچنے کا سفر گرین لینڈ کے عوام کے لیے مشکل رہا، تاہم انہوں نے اپنے بنیادی اصولوں پر قائم رہتے ہوئے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا اور اپنے ملک کے مفادات کی ذمہ داری نبھائی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ معاہدہ گرین لینڈ کے عوام، ان کی سرزمین، سلامتی اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق سے متعلق ہے۔

امریکی فوجی موجودگی میں اضافے کی راہ ہموار

یورپ اور شمالی امریکا کے درمیان واقع گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، جس کی آبادی تقریباً 57 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔

معاہدے کے تحت گرین لینڈ میں مزید امریکی فوجی اڈے قائم کرنے کی راہ ہموار ہوگی، جبکہ امریکا کو شمال مغربی گرین لینڈ میں واقع پٹوفک اسپیس بیس پر اپنی سرگرمیوں کو جدید بنانے اور وسعت دینے کی بھی اجازت ہوگی۔

مزید پڑھیں: اگر امریکا گرین لینڈ پر قبضہ نہیں کرے گا تو چین اور روس کرلیں گے جو قابل قبول نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

معاہدے کی شرائط کے مطابق گرین لینڈ بدستور ڈنمارک کے زیرِ انتظام رہے گا، تاہم اگر مستقبل میں یہ جزیرہ آزادی حاصل کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس صورت میں بھی معاہدہ لاگو رہے گا۔

معاہدے کے باضابطہ طور پر نافذ العمل ہونے کے لیے ڈنمارک اور گرین لینڈ میں ضروری پارلیمانی کارروائی مکمل ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ڈنمارک کی پارلیمنٹ رواں ماہ کے اواخر میں اس معاہدے پر بحث کرے گی، جبکہ امریکا میں اس کی منظوری کے لیے سینیٹ کی توثیق درکار نہیں ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp