خیبر پختونخوا: 2024 میں دہشتگردی کے 670 واقعات رپورٹ ہوئے

ہفتہ 28 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے مطابق خیبر پختونخوا میں رواں سال دہشتگردی کے 670 واقعات رپورٹ ہوئے۔ دہشتگردی کے سب سے زیادہ 121 واقعات ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) میں پیش آئے۔ بنوں میں 116 اور خیبر میں 80 ناخوشگوار واقعات رونما ہوئے۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں دہشتگردی کی کارروائیاں ناکام، 16 خوارج گرفتار

سی ٹی ڈی رپورٹ کے مطابق دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں 212 شدت پسند مارے گئے۔ مارے جانے والوں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ڈی آئی خان میں ہوئیں جہاں 80 شدت پسند مارے گئے۔ بنوں میں 41 اور خیبر میں 23 شدت پسندوں کو قتل کیا گیا۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں 2024 بدترین سال، دہشتگردی میں 17.84فیصد اضافہ

سی ٹی ڈی نے رواں سال شمالی وزیرستان میں 19 شدت پسند مارے جبکہ مختلف کارروائیوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 204 اہلکار شہید جبکہ 383 اہلکار زخمی ہوئے۔ حملوں میں 174 عام شہری بھی شہید جبکہ 275 زخمی ہوئے۔ دہشتگردی میں 149 پولیس اہلکار شہید اور 232 زخمی ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیا میں 14 لاکھ 30 ہزار سال پرانے قدموں کے نشانات سے انسانی نسل کے بارے میں نئی معلومات سامنے آگئیں

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ، حکومت نے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا

آزاد کشمیر میں ووٹ پر کھلم کھلا ڈاکا ڈالا گیا، دھاندلی کے ثبوتوں کا جواب دیا جائے: بلاول بھٹو زرداری

کالعدم ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کا زخمی ہونے کا جعلی ڈرامہ، پولیس کے قریب آتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے

میرپور ڈویژن میں کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری عوام مسلم لیگ ن پر اعتماد کرتی ہے، نواز شریف

ویڈیو

مجھے نیتن یاہو کی فراہم کردہ معلومات کی ضرورت نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو آڑے ہاتھوں لے لیا

آزاد کشمیر: انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام، مسلم لیگ ن نے پہلے مرحلے میں میدان مار لیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے اچھی بات چیت کا اعتراف، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی