بصارت سے محروم افراد کیسے تعلیم حاصل کرتے ہیں؟

ہفتہ 4 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کاغذ پر ابھرے ہوئے چھوٹے چھوٹے نقطے بصارت سے محروم افراد کے لیے ایک خاص زبان کی طرح ہیں، وہ انہیں انگلیوں سے چھو کر پڑھ سکتے ہیں اور ان سے بہت  سی باتیں سمجھ سکتے ہیں، اس خاص زبان کو ’بریل‘ کہتے ہیں۔

یہ نظام 6 نقطوں پر مبنی ہوتا ہے جنہیں 2 کالموں میں 3، 3 نقطوں کے طور پر ترتیب دیا جاتا ہے، ہر نقطے کا ایک عددی اندراج ہوتا ہے، ان نقطوں پر انگلیاں پھیری جاتی ہیں اور لکھی ہوئی تحریر کا مفہوم سمجھ لیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر صرف پہلی قطار کے پہلے اور تیسرے نقطے ابھرے ہوئے ہوں تو یہ انگریزی زبان میں حرف ‘A’ کو ظاہر کرتا ہے، اگر تمام 6 نقطے ابھرے ہوئے ہوں تو یہ انگریزی زبان میں حرف ‘W’ کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پرھیں: معذوری مجبوری نہیں ہوتی، بصارت سے محروم کراچی کا باہمت پھل فروش

4 جنوری کو دنیا بھر میں بریل کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے ’بریل‘ کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ بریل کی ایجاد نے بصارت سے محروم افراد کو پڑھنے، لکھنے اور سیکھنے کا ایک نیا راستہ فراہم کیا ہے۔ آج کل بریل کی کتابیں، اخبارات اور بہت سی دوسری چیزیں بھی موجود ہیں جو بصارت سے محروم افراد کے لیے بہت مفید ہیں۔

بریل کون تھا؟

لوئس بریل (Louis Braille) ایک فرانسیسی ماہر تعلیم اور مؤجد تھے، جنہوں نے نابینا افراد کے لیے ایک تحریری نظام متعارف کرایا جو آج ’بریل‘ کے کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بریل 4 جنوری 1809 کو فرانس کے شہر ’کوپیرے‘ میں پیدا ہوئے، بچپن میں ایک حادثے کے نتیجے میں ان کی بینائی ضائع ہو گئی تھی، مگر اس کے باوجود انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور نابینا افراد کے لیے ایک ایسا طریقہ ایجاد کیا جس سے وہ بھی پڑھ اور لکھ سکیں۔

 

بریل مختلف نشانات یا ڈاٹس (نقطے) ہوتے ہیں جو حروف، نمبروں اور علامتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ نظام نابینا افراد کو پڑھنے اور لکھنے میں خودمختاری فراہم کرتا ہے۔ آج اس نظام کو دنیا بھر میں استعمال کیا جاتا ہے۔ لوئس بریل کا یہ اہم کارنامہ 1830 کی دہائی میں مکمل ہوا تھا، ان کی اختراع نے دنیا بھر میں بصارت سے محروم افراد کی زندگیوں میں انقلاب برپا کیا ہے۔

یہ بھی پرھیں: بریل کے عالمی دن پر صدر اور وزیراعظم پاکستان کا پیغام

ڈیجیٹل بریل ڈسپلے

یہ ایک ایسا آلہ ہے جو الیکٹرونک طور پر بریل کے نقطے پیدا کرتا ہے۔ اس میں ایک چھوٹی اسکرین ہوتی ہے جس پر تحریر کا متن بریل کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ اسے کمپیوٹرز، اسمارٹ فونز اور دیگر الیکٹرونک آلات سے جوڑا جاسکتا ہے، نابینا افراد ان آلات کی مدد سے کوئی بھی تحریر پڑھ سکتے ہیں۔

بریل پرنٹر

یہ پرنٹر عام پرنٹرز کی طرح ہی کام کرتا ہے، لیکن یہ متن کو کاغذ پر بریل کی شکل میں پرنٹ کرتا ہے۔ اس سے کتابیں، دستاویزات اور دیگر مواد کو بریل میں تبدیل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

اسمارٹ بریل گھڑیاں

یہ گھڑیاں صرف وقت ہی نہیں بتاتی بلکہ ان میں بہت سی دیگر خصوصیات بھی ہوتی ہیں جیسا کہ کالز، پیغامات اور الرٹس کو بریل میں پڑھنا وغیرہ۔

بریل کی ایپلی کیشنز

آج کل بہت سی ایپس موجود ہیں جو نابینا افراد کو موبائل فونز اور ٹیبلٹس پر بریل میں پڑھنے اور لکھنے میں مدد کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بصارت سے محروم لیکن بصیرت افروز باصلاحیت بہن بھائی

بریل ٹرانسلیٹر

یہ ایک سوفٹ ویئر ہے جو کسی بھی ڈیجیٹل متن کو بریل میں تبدیل کرسکتا ہے۔ اس سے نابینا افراد کسی بھی ڈیجیٹل مواد کو آسانی سے پڑھ سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: امریکا اسے کیسے نافذ کر سکتا ہے؟

ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی

اسلام آباد میں کیا دیکھوں اور فارغ وقت کہاں گزاروں؟ امریکی صحافی نے پاکستانیوں سے تجاویز مانگ لیں

مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی توقع، آئی ایم ایف

حد سے زیادہ دعوے، کمزور نتائج: نیتن یاہو کو جنگ بندی پر شدید ردِعمل کا سامنا

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا کرسکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا