کوئٹہ میں کوئلے کی کان بیٹھنے سے 12 مزدور ملبے دب گئے، ریسکیو آپریشن جاری

جمعرات 9 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان کے علاقے سنجدی میں کوئلے کی کان بیٹھنے سے 12 مزدور ملبے تلے دب گئے ہیں، جن کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

ترجمان بلو چستان حکومت کے مطابق کوئٹہ سے 40 کلو میٹر دور سنجدی کے علاقے میں کوئلے کی کان گیس بھر جانے سے بیٹھ گئی ہے، 12 مزدور کان میں دب گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دکی کوئلہ کان حملہ، کانکنی معطل، ہزاروں مزدوروں کے بےروزگار ہونے کا خدشہ

ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئی ہیں، وزیر معدنیات و خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے چیف انسپکٹر مائنز غنی بلوچ کو متائثرہ مقام پر 2 مزید ٹیمیں بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیر معدنیات نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ مائننگ کے مروجہ طریقہ کار کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر کان مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، کوئی مائن اونر قانون اور انسانی زندگیوں سے بڑا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دکی: کوئلہ کانوں پر مسلح افراد کا حملہ، 20 کان کن ہلاک

میر شعیب نوشیروانی نے ہدایت کی ہے کہ متاثرہ کان سے مزدوروں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن  تیز کیا جائے، مزدوروں کے تحفظ کے لیے مائنز میں حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا ہے کہ حکومت مزدوروں کے حقوق اور حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی، مائنز ڈیپارٹمنٹ کو حادثات کی روک تھام کے لیے جدید سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں