وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

ہفتہ 29 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار افراد پر 20 سال تک کی گئی تحقیق میں کمر اور کولہوں کے تناسب کو دل کی صحت کے خطرات جانچنے کا زیادہ مؤثر طریقہ قرار دیا گیا

ایک نئی بڑی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کسی شخص کی کمر کا گھیر اس کے دل کی صحت کے بارے میں ایسی اہم معلومات فراہم کرسکتا ہے جو صرف وزن اور قد کی بنیاد پر نکالا جانے والا باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) ظاہر نہیں کرتا۔

تحقیق کے مطابق بعض ایسے افراد جن کا بی ایم آئی معمول کے مطابق تھا، ان کے پیٹ کے گرد زیادہ چربی موجود تھی اور انہیں دل سے متعلق بیماریوں کا زیادہ خطرہ لاحق تھا۔

یہ بھی پڑھیں:کیا نیند میں کمی وزن بڑھنے کا سبب بن سکتی ہے؟

محققین نے 15 طویل مدتی طبی مطالعات میں شامل تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار بالغ افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ ان افراد کی صحت پر تقریباً 20 سال تک نظر رکھی گئی۔

تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کا بی ایم آئی معمول یا قدرے زیادہ وزن کے زمرے میں تھا لیکن ان کی کمر کا گھیر زیادہ تھا یا کمر اور کولہوں کا تناسب زیادہ تھا، ان میں دل سے متعلق مختلف بیماریوں اور موت کا خطرہ عموماً 15 سے 50 فیصد تک زیادہ دیکھا گیا۔

جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی میں شائع تحقیق کے مطابق بی ایم آئی صرف یہ بتاتا ہے کہ کسی شخص کا وزن اس کے قد کے مقابلے میں کتنا ہے، لیکن یہ نہیں بتاتا کہ جسم میں چربی کہاں جمع ہے۔ خاص طور پر پیٹ کے گرد جمع ہونے والی چربی صحت کے لیے زیادہ نقصان دہ ہوسکتی ہے۔

غذائی ماہر ایرن پالنسکی ویڈ نے فوکس نیوز کو بتایا کہ جسم میں چربی کی جگہ اس کی مقدار سے زیادہ اہم ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق پیٹ کے اندرونی حصے میں موجود چربی اہم اعضا کے گرد جمع ہوتی ہے اور جسم میں سوزش پیدا کرنے، انسولین کے نظام کو متاثر کرنے اور خون کی شریانوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتی ہے۔

تحقیق میں دل کے دورے، فالج، ہارٹ فیل ہونے، دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی اور دل کی بیماریوں سے ہونے والی اموات سمیت کئی طبی نتائج کا جائزہ لیا گیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ صحت کا جائزہ لیتے وقت صرف وزن یا بی ایم آئی دیکھنے کے بجائے جسم میں چربی کی تقسیم، خاص طور پر کمر کے گرد چربی کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

تاہم تحقیق میں بعض حدود بھی موجود تھیں۔ محققین کے پاس شرکا کی جسمانی سرگرمی، خوراک اور موٹاپے کے جینیاتی خطرات سے متعلق مکمل معلومات موجود نہیں تھیں، جبکہ کمر کا گھیر اور کمر و کولہوں کا تناسب صرف ایک مرتبہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس لیے وقت کے ساتھ پیٹ کی چربی میں ہونے والی تبدیلیوں اور دل کی بیماری کے خطرے کے درمیان تعلق کا مکمل اندازہ نہیں لگایا جاسکا۔

تحقیق کے مطابق مجموعی وزن معمول پر ہونے کے باوجود پیٹ کے گرد زیادہ چربی دل کی صحت کے لیے خطرے کی علامت ہوسکتی ہے، اس لیے صحت کا جائزہ لیتے وقت صرف ویٹ مشین پر نظر رکھنا کافی نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں