ہمیں گمراہ کیا گیا، بلوچستان میں ہتھیار ڈالنے والے 2 اہم دہشتگرد کمانڈرز کے چشم کشا انکشافات

جمعہ 24 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان میں مختلف دہشتگرد تنظیموں کو چھوڑنے والے اہم کمانڈرز نے انکشاف کیا ہے کہ دہشتگرد تنظیمیں نوجوانوں کو استعمال کرتی ہیں، ان کا مقصد امن و امان کو خراب کرنا ہے کیونکہ دشمن ممالک ریاست پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔

کوئٹہ میں دہشتگرد تنظیموں کے ہتھیار پھینکنے والے 2 اہم کمانڈرز نے نیوز کانفرنس کی جس میں بلوچستان کے صوبائی وزرا اور ڈی آئی جی (سی ٹی ڈی) بھی نیوز کانفرنس میں شریک تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بی ایل اے چھوڑ کر ہتھیار ڈالنے والے عسکریت پسند کے ہوشربا انکشافات

صوبائی وزیر ظہور بلیدی نے نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کا گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے، 2 اہم دہشتگرد کمانڈرز نے ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالے ہیں، 2 بچے پہاڑوں پر جارہے تھے، جنہیں ان کے والدین نے بچا لیا۔

دہشتگرد کمانڈر نجیب اللہ نے نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ دہشتگرد تنظیمیں نوجوانوں کو استعمال کرتی ہیں، دہشتگردوں کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں، ان کے اہل و عیال کو بخار بھی ہو تو بڑے اسپتالوں میں لے جایا جاتا ہے، دوسری طرف تنظیم کا کوئی عام ممبر لڑائی میں زخمی ہوجائے تو اس کے لیے چندہ جمع کرنا پڑتا ہے یا بعض اوقات وہ بغیر علاج کے ہی مارا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کا مقصد امن و امان کو خراب کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردوں کا اہم نیٹ ورک پکڑا گیا، 2 کمانڈرز گرفتار

کمانڈر نجیب اللہ نے کہا کہ حکومت نے ہمیں قومی دھارے میں شامل ہونے کا موقع دیا، دہشتگردوں نے ہمیں گمراہ کیا، دشمن ممالک کا مقصد ریاست پاکستان کو غیرمستحکم کرنا ہے، پہاڑوں پر موجود نوجوانوں کے پاس 2 وقت کی روٹی بھی نہیں۔

کمانڈر نجیب اللہ نے بتایا کہ اس کا شمار مکران ڈویژن بی آر پی کے اہم قائدین میں ہوتا ہے اور اس کا براہمداغ خان بگٹی، ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ اور بشیر زیب بلوچ، گلزار محمود عرف شنبے سے قریبی رابطہ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کے سبب سیاحت میں کمی واقع ہوئی؟

نجیب اللہ نے بتایا، ’اپنی زندگی کے 19 سال دہشتگرد تنظیموں کی نذر کرنے اور مذکورہ بلوچ رہنماؤں کا اصل چہرہ دیکھنے کے بعد میں نے ان سے کنارہ کشی اختیار کی اور خود کو ریاست پاکستان کے حوالے کردیا ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ 2005 میں دشتگرد تنظیم میں شامل ہوا اور بلوچ ریپبلکن پارٹی (بی آر پی) میں شمولیت اختیار کی کیونکہ مجھے سیاست میں دلچسپی تھی، میں اس پارٹی کا سینیئر ممبر بنا، اسی دوران ڈاکٹر اللہ نذر اور بشیر زیب نے میرے دوست سنگت ثنا کے خلاف سازش کی اور انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔

کمانڈر نجیب نے بتایا کہ بی آر اے کو مکران ڈویژن میں مضبوط کرنے میں سنگت ثنا کا اہم کردار تھا، براہمداغ بگٹی کے کہنے پر ہم نے 2 گروپس بنائے، ایک گروپ کی قیادت میں جبکہ دوسرے گروپ کی قیادت گلزار محمود شنبے کررہا تھا، ہم نے اپنے گروپس کی قلات میں ٹریننگ کرائی جس کے بعد بی آر اے مکران میں فعال ہوگئی، جس کے بعد ہم نے ریاست اور سیکیورٹی فورسز کو کافی نقصان پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں عوام دہشتگردوں سے زیادہ کس کے ہاتھوں جان گنوا رہے ہیں؟

انہوں نے بتایا کہ میری تنظیم سے وابستگی ناپختہ عمر میں ہوئی، میری عمر 14، 15 برس تھی جب میں اس تنظیم میں شامل ہوا، کم علمی اور کم شعور کی وجہ سے ریاست پاکستان کے خلاف نفرت میرے دل و دماغ میں بھری گئی، میں نے ریاست پاکستان اور سیکیورٹی فورسز کو بے تحاشہ نقصان پہنچایا۔

کمانڈر نجیب کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی تمام دہشتگرد تنظیموں میں آپسی اختلافات کے باوجود ریاست پاکستان کے خلاف نفرت کا پرچار عام تھا، ان کا مقصد بلوچ نوجوانوں کو ریاست پاکستان کے خلاف کھڑا کرنا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ دہشتگرد تنظیموں میں ذاتی اور گروہی مفاد کو ترجیح دی جاتی ہے، مثلاً ہربیار مری اور مہران مری دونوں بھائی ہیں، دونوں میں کرپشن کے معاملات پر اختلافات پیدا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بی ایل اے سے یو بی اے بنتا ہے، پھر دونوں گروپس کی لڑائی ہوجاتی ہے، اس لڑائی میں عام بلوچ مرتا ہے لیکن ان دونوں بھائیوں کو کچھ نہیں ہوتا۔

نیوز کانفرنس میں کمانڈر عبدالرشید نے بھی اہم انکشافات کیے اور بتایا کہ کیسے دہشتگرد تنظیمیں بلوچ عوام کے نام پر ریاست پاکستان کے خلاف صف آرا ہیں۔ علاوہ ازیں، 2 نوجوان بھی نیوز کانفرنس میں شامل تھے جنہیں ان کے والدین نے دہشتگرد تنظیموں میں شمولیت سے روکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp