ایران امریکہ جنگ کی آگ کو پھیلنے سے روکنے میں ایک غیر معمولی کردار سعودی عرب کا بھی رہا ۔ یہ اگر چہ زیادہ زیر بحث نہیں آیا لیکن اگر ہم اس معاملے کو درست تناظر میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب کا یہ کردار شاندار اور قابل تحسین تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاننے والے یہ بھی جانتے ہیں کہ یہاں بھی پاکستان سرخرو ہوا ۔
معاملے کو سمجھنے کے لیے ذرا سیاق و سباق کو دیکھ لیجیے۔ اس بات پر درجنوں بین الاقوامی ماہرین جنگ کا اتفاق ہے کہ یہ جنگ اصل میں اسرائیل نے شروع کی ۔ اس کا بنیادی محرک اسرائیل ہے ۔ یہ اس بات پر بھی متفق پائے جاتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی اس جنگ کے اہداف متضاد اور غیر واضح ہیں ، یہ بات بھی تواتر کے ساتھ لکھی جا رہی ہے کہ امریکہ کے پاس کوئی پلان بی نظر نہیں آ رہا ۔ کبھی آپ نے سوچا کہ یہ الجھن کیوں ہے؟
یہ الجھن اس لیے ہے کہ اسرائیل نے جن اندازوں اور تخمینوں کے ساتھ یہ جنگ شروع کی تھی ، پاکستان نے شاندار سفارتی کردار ادا کر کے ان اندازوں اور ان تخمینوں کو ہی الٹ دیا ۔ بالکل ایسے ہی جیسے پاکستان نے بھارت کے اندازوں اور تخمینوں کی پالیسی کی مانگ میں سیندور لگا دیا تھا۔
اسرائیل کا منصوبہ بڑا واضح تھا کہ اس نے ایک مختصر مدت کے لیے یہ جنگ خود لڑنا تھی اور اس کے بعد اس جنگ کو ایران اور عرب دنیا کی جنگ میں بدل دینا تھا ۔ جیسے ہی ایران اور سعودی عرب ایک دوسرے کے مد مقابل آتے ، اسرائیل کا کام ختم ہو جاتا۔ اس کے بعد مسلمان آپس میں لڑتے اور نیتن یاہو تل ابیب میں بیٹھ کر مسلماںوں کو آپس میں لڑتے دیکھتا رہتا۔
یہ کوئی نیا منصوبہ نہیں تھا، اس کے خدوخال ادید ینان کے ینان پلان میں 1980 میں ہی واضح کر دیے گئے تھے کہ عرب دنیا میں فرقہ وارانہ آگ جتنی بھڑکے گی وہ اسرائیل کے لیے اتنی ہی فائدہ مند ہوگی ۔
یہاں بھی ایران اور سعودی عرب کی جنگ دو ملکوں کی جنگ نہیں ہونی تھی ۔ اس نے پوری امت کو آتش فشاں بنا دینا تھا۔ فرقہ وارانہ الاؤ دہک اٹھنا تھا اور جانے کس کس ملک میں آگ لگنا تھی ۔ یہ منظر نامہ اتنا خوفناک ہے کہ اس کے تصور سے ہی جھرجھری آ جاتی ہے ۔
یہ وہ خطرہ تھا جسے پاکستان نے محسوس کیا اور وہ امن کے نام پر فوری طور پر میدان میں آیا ۔ پاکستان کو معلوم تھا یہ آگ بھڑکی تو نقصان صرف مسلمانوں کا ہونا ہے ۔ یہ آسان کام نہیں تھا ۔ لیکن پاکستان نے کر دکھایا ۔
ایک طرف پاکستان نے امریکہ کو سیز فائر پر قائل کیا ۔ اسرائیل سیز فائر نہیں چاہتا تھا ، وہ جنگ کو بڑھاوا دینا چاہتا تھا یہاں تک کہ اس کا مقصد پورا ہو جائے لیکن پاکستان نے پھر بھی امریکہ سے سیز فائر کروایا ۔ تزویراتی دنیا میں امریکہ سے اسرائیل کی خواہشات کے برعکس فیصلہ کروانا ، کیا یہ غیر معمولی کامیابی ہے؟ جی نہیں ، یہ بہت بڑی اور غیر معمولی کامیابی ہے۔
دوسری طرف پاکستان نے ایران سے کہا کہ سعودی عرب سے ہمارا دفاعی معاہدہ ہے ، سعودی عرب کا دفاع ہماری ریڈ لائن ہے ، آپ ہمارے بھائی ہیں ، پڑوسی ہیں ، آپ ہماری حساسیت کا خیال رکھیں گے ۔
تیسری جانب پاکستان نے سعودی عرب سے کہا کہ آپ نے ایران کے خلاف کسی جوابی کارروائی سے اجتناب سے کرنا ہے۔ سعودی عرب نے غیر معمولی صبر و تحمل اور بالغ نظری کا مظاہرہ کیا ورنہ ایسے مقامات آئے تھے جہاں سعودی عرب کی جانب سے جوابی کارروائی کا خطرہ بھی موجود تھا اور اس کا جواز بھی موجود تھا ۔
چنانچہ اسرائیل کی ساری کوششوں کے باوجود ایران اور سعودیہ میں جنگ کی سازش کامیاب نہ ہو سکی۔ منصوبہ اپنی ابتدا میں ہی ناکام ہو گیا ۔ جسے تجزیہ کار الجھن اور ابہام لکھ رہے ہیں وہ اصل میں اس منصوبے کی ناکامی کا ملبہ ہے۔ بلکہ اب تو ہم وال سٹریٹ جرنل سے لے کر دی گارڈین تک میں یہ خبریں بھی پڑھ رہے ہیں کہ ایران کے خلاف امریکہ کا پراجیکٹ فریڈم معطل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سعودی عرب نے ایران کے خلاف اپنی زمین کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
ایران اور سعودیہ میں جنگ کی سازش کے حوالے سے سعودی پرنس ترک الفیصل کا تازہ مضمون بہت اہم ہے ۔ یاد رہے کہ ترک الفیصل سعودی انٹیلی جنس کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں : “اگر ہمارے اور ایران کے درمیان جنگ کا اسرائیلی منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو پورا خطہ تباہی اور بربادی کا شکار ہو جاتا ۔ ہمارے ہزاروں بیٹے اور بیٹیاں ایک ایسی جنگ میں جانیں گنوا بیٹھتے جس میں ہمارا کوئی مفاد ہی نہیں تھا۔ اسرائیل خطے پر اپنی مرضی مسلط کرنے میں کامیاب ہو جاتا اور ہمارے گرد و نواح میں واحد طاقت بن کر ابھرتا۔ محمد بن سلمان کی دانشمندی اور دور اندیشی کے باعث سعوددی عرب جنگ کی ہولناکیوں اور اس کے تباہ کن نتائج سے محفوظ رہا ۔”
آگے چل کر وہ لکھتے ہیں :” حقیقت یہ ہے کہ اب پاکستان کے ساتھ مل کر سعودی عرب جنگ کی آگ بجھا رہا ہے، کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے میں کردار ادا کر رہا ہے، اور امن کے داعیوں کو یہ امید دے رہی ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی زندگیوں اور اپنے مفادات کے تحفظ کے حوالے سے اطمینان محسوس کر سکیں۔”
جنوبی ایشیا میں پاکستان جنگ جیت کر سرخرو ہے ، مشرق وسطی میں پاکستان جنگ روک کر سرخرو ہے۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان ہندتوا کے آگے پہاڑ بن کر کھڑا ہے اور مشرق وسطی میں پاکستان صہیونیت کے راستے میں رکاوٹ بن کر کھڑا ہے ۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













