امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی مزاحمت نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کے بارے میں بڑی طاقتوں کے اندازے بھی بدل دیے ہیں۔ روسی تجزیہ کار تیموفے بورداچیف اور والڈائی کلب کے پروگرام ڈائریکٹر کے مطابق آبنائے ہرمز کے بحران نے ہر بڑی طاقت کے حسابات بدل دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں پہلی عالمی جنگ کی یادگار مسمار نہیں کی گئی بلکہ محفوظ انداز میں منتقل کی جا رہی ہے
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ فروری میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور اس کے بعد آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے عالمی منڈیوں کو شدید متاثر کیا۔ توانائی کی ترسیل متاثر ہونے سے نہ صرف مغربی ممالک بلکہ چین اور بھارت جیسی بڑی معیشتیں بھی دباؤ میں آگئیں، جبکہ عالمی کساد بازاری کے خدشات میں اضافہ ہوا۔
Australians are already “paying a hefty price for this war, at the bowser and beyond” – now, the cost has soared even higher. 📌 See what it means for you 👉 https://t.co/FnJC4Ic9Sl pic.twitter.com/WPcwdeJZhD
— The Advertiser (@theTiser) May 13, 2026
مضمون کے مطابق ماضی میں مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کو محدود نوعیت کا سمجھا جاتا تھا، تاہم ایران بحران نے پہلی بار یہ دکھایا کہ ایک علاقائی جنگ عالمی معاشی نظام کی بنیادیں بھی ہلا سکتی ہے۔
تجزیہ نگار کے مطابق امریکا اور اسرائیل کو توقع تھی کہ شدید فضائی حملوں اور دباؤ کے بعد ایرانی نظام جلد کمزور پڑ جائے گا، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ ایرانی ریاستی ڈھانچہ برقرار رہا، فوج فعال رہی اور کسی بڑے عوامی انقلاب نے جنم نہیں لیا۔ اس صورتحال کے نتیجے میں طاقت دکھانے کے لیے کیا گیا حملہ الٹا غیر یقینی صورتحال کو بے نقاب کر گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کو تیسری عالمی جنگ کا خطرہ، امریکا چاہتا ہے کہ یوکرین ڈونباس سے دستبردار ہو، زیلنسکی کا انکشاف
رشیا ٹو ڈے میں شائع مضمون میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف کارروائی امریکا کے لیے ’ضرورت کی جنگ‘ نہیں بلکہ ’انتخاب کی جنگ‘ تھی، کیونکہ ایران امریکا کے وجود کے لیے براہِ راست خطرہ نہیں تھا۔ اسی وجہ سے واشنگٹن نے انتہائی فوجی اقدامات سے گریز کیا اور یہ بات امریکا کی اپنی حدود کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
تجزیے میں چین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایران پر حملے نے بیجنگ کو بھی نئی مشکلات سے دوچار کیا۔ مشرقِ وسطیٰ میں چینی سرمایہ کاری، توانائی کے راستے اور عالمی تجارت خطرے میں پڑنے سے چین اب معاشی انحصار اور تزویراتی خودمختاری کے درمیان توازن پر غور کر سکتا ہے۔
روس کے بارے میں مضمون میں کہا گیا کہ اگرچہ ماسکو کو بلند توانائی قیمتوں سے عارضی معاشی فائدہ ہوا، تاہم روس بھی مشرقِ وسطیٰ میں مکمل افراتفری یا امریکی اثرورسوخ کے مکمل خاتمے کا خواہاں نہیں، کیونکہ محدود امریکی موجودگی عالمی توازن برقرار رکھنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ والڈائی کلب کی شائع کردہ اس تحریر میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ایران بحران نے بڑی طاقتوں کو عسکری قوت، معاشی کمزوری، عالمی انحصار اور نئے عالمی نظام کے بارے میں دوبارہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔













