امریکا ایران جنگ: کیا عالمی نظام بدلنے والا ہے؟

بدھ 13 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی مزاحمت نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کے بارے میں بڑی طاقتوں کے اندازے بھی بدل دیے ہیں۔ روسی تجزیہ کار تیموفے بورداچیف اور والڈائی کلب کے پروگرام ڈائریکٹر کے مطابق آبنائے ہرمز کے بحران نے ہر بڑی طاقت کے حسابات بدل دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں پہلی عالمی جنگ کی یادگار مسمار نہیں کی گئی بلکہ محفوظ انداز میں منتقل کی جا رہی ہے

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ فروری میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور اس کے بعد آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے عالمی منڈیوں کو شدید متاثر کیا۔ توانائی کی ترسیل متاثر ہونے سے نہ صرف مغربی ممالک بلکہ چین اور بھارت جیسی بڑی معیشتیں بھی دباؤ میں آگئیں، جبکہ عالمی کساد بازاری کے خدشات میں اضافہ ہوا۔

مضمون کے مطابق ماضی میں مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کو محدود نوعیت کا سمجھا جاتا تھا، تاہم ایران بحران نے پہلی بار یہ دکھایا کہ ایک علاقائی جنگ عالمی معاشی نظام کی بنیادیں بھی ہلا سکتی ہے۔

تجزیہ نگار کے مطابق امریکا اور اسرائیل کو توقع تھی کہ شدید فضائی حملوں اور دباؤ کے بعد ایرانی نظام جلد کمزور پڑ جائے گا، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ ایرانی ریاستی ڈھانچہ برقرار رہا، فوج فعال رہی اور کسی بڑے عوامی انقلاب نے جنم نہیں لیا۔ اس صورتحال کے نتیجے میں طاقت دکھانے کے لیے کیا گیا حملہ الٹا غیر یقینی صورتحال کو بے نقاب کر گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کو تیسری عالمی جنگ کا خطرہ، امریکا چاہتا ہے کہ یوکرین ڈونباس سے دستبردار ہو، زیلنسکی کا انکشاف

رشیا ٹو ڈے میں شائع مضمون میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف کارروائی امریکا کے لیے ’ضرورت کی جنگ‘ نہیں بلکہ ’انتخاب کی جنگ‘ تھی، کیونکہ ایران امریکا کے وجود کے لیے براہِ راست خطرہ نہیں تھا۔ اسی وجہ سے واشنگٹن نے انتہائی فوجی اقدامات سے گریز کیا اور یہ بات امریکا کی اپنی حدود کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

تجزیے میں چین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایران پر حملے نے بیجنگ کو بھی نئی مشکلات سے دوچار کیا۔ مشرقِ وسطیٰ میں چینی سرمایہ کاری، توانائی کے راستے اور عالمی تجارت خطرے میں پڑنے سے چین اب معاشی انحصار اور تزویراتی خودمختاری کے درمیان توازن پر غور کر سکتا ہے۔

روس کے بارے میں مضمون میں کہا گیا کہ اگرچہ ماسکو کو بلند توانائی قیمتوں سے عارضی معاشی فائدہ ہوا، تاہم روس بھی مشرقِ وسطیٰ میں مکمل افراتفری یا امریکی اثرورسوخ کے مکمل خاتمے کا خواہاں نہیں، کیونکہ محدود امریکی موجودگی عالمی توازن برقرار رکھنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ والڈائی کلب کی شائع کردہ اس تحریر میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ایران بحران نے بڑی طاقتوں کو عسکری قوت، معاشی کمزوری، عالمی انحصار اور نئے عالمی نظام کے بارے میں دوبارہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت: نرس کی مبینہ غفلت کے باعث غلط انجیکشن لگنے سے مریض جان کی بازی ہار گیا

سعودی عرب: روشنیوں اور فنِ تعمیر کا امتزاج، کنگ عبدالعزیز اسکوائر نے شہر کی شناخت بدل دی

عالمی کشیدگی کے باوجود سونا کیوں سستا ہو رہا ہے؟ ماہرین نے اہم وجوہات بتا دیں

جنگ بندی معاہدہ آج طے پانے کا امکان، ٹرمپ پُرامید، تہران نے فوری دستخط کی تردید کردی

فیفا ورلڈ کپ: آخری لمحات میں قطر کی واپسی، سوئٹزرلینڈ کے خلاف میچ برابر

ویڈیو

مشکل معاشی حالات میں حکومت نے بہترین بجٹ پیش کیا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

امریکا ایران ڈیل فائنل، پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟

وزیراعظم شہباز شریف کی چارٹر آف اکانومی اور چارٹر آف ڈیموکریسی کے لیے اپوزیشن کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت

کالم / تجزیہ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ

سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے کیوں اہم ہیں؟

ہارڈ اسٹیٹ: گزارا کرنا سیکھیں