اس شام جب اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف مکے لہرا کر اپنی کامیابی کی نوید سنا رہے تھے، عین اسی لمحے کراچی کی شاہراہوں پر بہنے والے لہو کی سرخی ابھی تھمی نہیں تھی۔ شہر کی فضا معصوم چیخوں اور ایمبولینسوں کے نوحہ کناں سائرن سے بوجھل تھی۔ سرکاری اسپتالوں میں 50 کے قریب لاشوں کا اندراج ہو چکا تھا، لیکن ان خشک اعداد و شمار کے پیچھے چھپا انسانی المیہ ان ہندسوں سے کہیں زیادہ گہرا اور خوفناک تھا۔
اسی افراتفری اور خونی ہنگامے کے دوران ایک شخص ایسا بھی تھا جسے لوگوں نے مردہ قرار دے کر گویا قصہ پارینہ سمجھ لیا تھا، مگر مشیتِ ایزدی کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ برسوں کی خاموشی کے بعد وہی زندہ لاش جب ہمارے صحافی دوست سہیل خٹک کے سامنے بیٹھی، تو اس نے اس سیاہ دن کی وہ روداد سنائی جو سننے والوں کے رونگٹے کھڑی کر دیتی ہے۔ یہ محض ایک فرد کی بپتا نہیں بلکہ اس پورے نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے جہاں اقتدار کی شطرنج پر پیادوں کی جان کی وقعت مٹی سے زیادہ نہیں۔
اس المیے کے پسِ منظر میں جھانکیں تو ہمیں انیس برس پیچھے اس دور میں جانا پڑتا ہے جب عدلیہ بحالی تحریک اپنے جوبن پر تھی۔ 12 مئی 2007 کی وہ تاریخ، جب معطل چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کراچی کی زمین پر قدم رکھنے کا اعلان کیا۔ سیاسی فضا مسموم تھی۔ ایک طرف اپوزیشن جماعتیں ان کے استقبال کے لیے بے تاب تھیں تو دوسری جانب مقتدر حلقے اور ان کے اتحادی کسی بھی قیمت پر انہیں ایئرپورٹ کی حدود سے باہر نکلنے دینے پر آمادہ نہ تھے۔ اس وقت کے مشیر داخلہ وسیم اختر پر اس مشن کو ہر حال میں کامیاب بنانے کا بوجھ تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پورا شہر کنٹینرز کے حصار میں آگیا اور شاہراہ فیصل مسلح جتھوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دی گئی۔
12 مئی کے اس خونی منظر نامے کی وہ تصویر شاید آپ کی نظروں سے بھی گزری ہو، جس میں ایک سلور رنگ کی کار کے گرد چند لاشیں پڑی ہیں۔ اس تصویر کا ایک مرکزی کردار اقبال نامی شخص آج بھی اس کرب کی جیتی جاگتی گواہی ہے۔
اقبال اس دلدوز منظر کی یاد تازہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ تصویر میں سفید لباس میں ملبوس وہ شخص جسے دنیا مردہ سمجھ چکی تھی، دراصل وہ خود تھے۔ وہ اس وقت 6 گولیاں لگنے کے باوجود اپنی اکھڑتی ہوئی سانسوں کو سنبھالنے کی کوشش کررہے تھے۔ وہ اپنے دوست کے ہمراہ جسٹس افتخار چوہدری کے استقبال کے لیے نکلے تھے، مگر ملیر کالا بورڈ کے قریب موت ان کی گھات میں تھی۔
اقبال کے مطابق جب گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہوئی تو انہوں نے زخمیوں کو اپنی گاڑی میں پناہ دینے کی کوشش کی مگر حملہ آوروں نے انہیں گھیر لیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح بے رحمی سے ان پر گاڑی کے اندر ہی گولیاں برسائی گئیں، جبکہ ان کے تین ساتھی موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ اقبال کے بیان میں ایک تلخ ترین موڑ وہ ہے جب ایک نجی چینل کے رپورٹر نے، جو یہ سب اپنی رپورٹنگ کے لیے نوٹ کررہا تھا، حملہ آوروں کو ان کے زندہ ہونے کی نشاندہی کی، جس کے بعد ان پر ایک اور گولی چلائی گئی۔
شدید اذیت کے اس لمحے میں اقبال نے ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنی آنکھیں کھلی رکھنے کے باوجود چہرے کو قمیض سے ڈھانپ لیا تاکہ حملہ آور انہیں مردہ سمجھ کر وہاں سے ہٹ جائیں۔ اسی دوران جب مسجد سے اذان کی صدا بلند ہوئی تو انہیں یقین ہو چلا تھا کہ یہ ان کی زندگی کی آخری اذان ہے۔ انہیں بچایا تب گیا جب مسلح افراد وہاں سے پسپا ہوئے۔ ایک چھوٹے بچے نے جب ان کی سکت جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے انتہائی نحیف آواز میں اپنی زندگی کی اطلاع دی اور اسپتال پہنچانے کی التجا کی۔
اقبال جسمانی طور پر تو موت کو شکست دے کر لوٹ آئے، لیکن 12 مئی کے اس صدمے نے ان کی روح پر جو گھاؤ لگائے، وہ آج بھی نہیں بھر سکے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اب ان کی یادداشت ان کا ساتھ چھوڑنے لگی ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے بچوں کے نام پکارنے میں بھی مشکل محسوس کرتے ہیں۔ یہ اس نفسیاتی اذیت کی قیمت ہے جو وہ آج تک چکا رہے ہیں۔ ان کے رفیق تو منوں مٹی تلے جا سوئے، مگر اقبال ایک ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں سائے بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔
ہر سال مئی کا مہینہ آتا ہے، سیاست کی بساط پر وہی پرانے مہرے، وہی الزامات کی گرد اور وہی بیانات کی گھن گرج سنائی دیتی ہے، مگر انصاف کی بستی میں آج بھی ’ہو‘ کا عالم ہے۔ اقبال جیسے خوش قسمت تو لوٹ آئے، لیکن ان درجنوں انسانوں کا کیا ہوا جن کا لہو سڑکوں پر بہہ کر رزق خاک ہوگیا؟ ان کی موت سے کس نے سیاسی فائدہ سمیٹا، یہ بحث تو شاید تاریخ کی کتابوں میں چلتی رہے گی، مگر تلخ حقیقت یہی ہے کہ اس دن کراچی کی سڑکوں پر صرف انسان نہیں گرے تھے، بلکہ ریاست کا وقار اور عدل کا جنازہ بھی نکلا تھا۔ انیس برس بیت گئے، مگر 12 مئی کا زخم آج بھی رستا ہوا ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ڈھونڈنے کی ہمت شاید کسی میں نہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













