لاہور ہائیکورٹ: چیئرمین نادرا کو ہٹانے کا حکم کالعدم قرار

بدھ 19 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیئرمین نادرا کو ہٹانے کا سنگل بینچ کا حکم کالعدم قرار دیدیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کی اپیل منظور کرلی۔ جسٹس چوہدری محمد اقبال کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے  اپیل پر فیصلہ سنایا۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے سنگل بینچ کے فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ نے گزشتہ برس 6 ستمبر کو چیئرمین نادرا کو ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے، لیفٹنینٹ جنرل منیر افسر کی تعیناتی کالعدم قرار دے دی تھی۔

یہ بھی پڑھیےلاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین نادرا کو ہٹانے کا حکم دے دیا

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ نے چیئرمین نادرا کی تقرری کے خلاف درخواست منظور کرتے ہوئے فیصلہ دیا، شہری اشبا کامران نے چیئرمین نادرا منیر افسر کی تقرری کو چیلنج کررکھا تھا۔

اس سے قبل وفاقی حکومت نے لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر کو 3 سال کے لیے چیئرمین نادرا تعینات کرنے کی منظوری دی تھی۔ وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے وزارت داخلہ کی سمری کو منظور کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیےلاہور ہائیکورٹ نے لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر کو بطور چیئرمین نادرا بحال کردیا

بعدازاں 10 ستمبر کو لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل  منیر افسر کو ان کے عہدے پر بحال کردیا تھا۔ چیئرمین نادرا کی تعیناتی کالعدم قرار دینے کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔سیکرٹری داخلہ کے ذریعے انٹرا کورٹ اپیل ہائیکورٹ میں دائر کی گئی جس میں صدر پاکستان کو بذریعہ سیکرٹری اور وزیر اعظم کو بذریعہ سیکرٹری سمیت دیگر کو اپیل میں فریق بنایا گیا۔

چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر کون ہیں؟

لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر ہلال امتیاز (ملٹری) پاکستان آرمی اور اقوام متحدہ مشن میں آئی ٹی سے متعلق تکنیکی ترقی اور انتظام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر پبلک پالیسی اینڈ نیشنل سیکیورٹی مینجمنٹ میں ایم فل ہیں۔ انہوں نے 2010 کے سیلاب کے دوران جی آئی ایس کے شعبہ میں پبلک پالیسی رسپانس پر تحقیقی مقالہ مرتب کیا۔

لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر نے جیو گرافک انفارمیشن سسٹمز (جی آئی ایس) اور ریموٹ سینسنگ میں ایم ایس کیا۔ فوٹو میٹری کے ذریعے تیز رفتار جغرافیائی ڈیٹا تخلیق سے متعلق ان کے مقالے پر انہیں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ این ڈی یو واشنگٹن ڈی سی سے نیشنل ریسورس اسٹریٹجی (سی اینڈ آئی ٹی انڈسٹری اینڈ سپلائی چین مینجمنٹ) میں ایم ایس کیا جہاں انہیں ایک ممتاز گریجویٹ قرار دیا گیا۔

اس وقت وہ نسٹ (NUST) اسلام آباد میں ریموٹ سینسنگ میں پی ایچ ڈی کے امیدوار ہیں۔ ان کا تحقیقی مقالہ ریموٹ سینسنگ اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے پلانٹ ڈزیزز کا پتا لگانے سے متعلق ہے۔ آئی ٹی اور جی آئی ایس کے مختلف پہلوﺅں سے متعلق کریڈٹ کے لیے انہیں نے متعدد تحقیقی اشاعتیں کیں۔

آئی ٹی سے متعلق کام کے تجربہ میں ملٹری جیو گرافک انفارمیشن سسٹمز (جی آئی ایس) آفیسر کے طور پر یو این ایم ایس میں خدمات انجام شامل ہیں۔ 2010 کے سیلاب کے دوران سیلاب سے بحالی کے لیے جی آئی ایس ایپلی کیشن کی تیاری میں ان کی وسیع پیمانے پر خدمات موجود ہیں۔

میجر جنرل کی حیثیت سے وہ ڈی جی کمانڈ، کنٹرول، کمیونیکیشن، کمپیوٹرز اینڈ انٹیلی جنس (C41) ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے جو آئی ٹی کے مکمل انتظام کی ذمہ دار ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی کے بعد وہ انسپکٹر جنرل کمیونیکیشن اینڈ آئی ٹی کے ساتھ ساتھ کمانڈر پاکستان آرمی سائبر کمانڈ بھی رہ چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے لیے پولنگ شروع، کانگریس کا کنٹرول کس کے ہاتھ آئے گا؟

آن لائن کھیلوں اور سوشل میڈیا پر بچوں کے لیے خطرناک جال، گروہ کیسے کام کرتے ہیں؟

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئے، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا