اسرائیل نے جنگ بندی میں تعطل کے بڑھتے ہی غزہ کی امداد روک دی

اتوار 2 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گزشتہ 6 ہفتوں سے جاری جنگ بندی پر بڑھتے تعطل کے پس منظر میں اسرائیل نے اتوار کے روز غزہ میں امدادی ٹرکوں کے داخلے کو روک دیا ہے جس کے بعد حماس نے مصری اور قطری ثالثوں سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے اس سے قبل کہا تھا کہ اسرائیل نے امریکی صدر کے ایلچی اسٹیووٹ کوف کی جانب سے غزہ میں رمضان اور پاس اوور کے ادوار کے لیے عارضی جنگ بندی کی تجویز کو منظور کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے غزہ میں داخل ہونے والے امدادی ٹرکوں کی تعداد کم کردی

اسرائیلی اعلان پہلے سے طے شدہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کی میعاد ختم ہونے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا تھا، جس پر اتفاق کی صورت میں 31 مارچ کے ارد گرد رمضان کے روزوں کے اختتام یعنی عید تک اور 20 اپریل کے ارد گرد یہودیوں کی پاس اوور کی تعطیلات تک جنگ بندی پر عمل کیا جائے گا۔

لیکن یہ جنگ بندی مشروط ہو گی کہ حماس پہلے دن زندہ اور مردہ یرغمالیوں میں سے آدھے کو رہا کر دے، باقی کو اختتام پر رہا کر دیا جائے، اگر مستقل جنگ بندی پر کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: غزہ میں امداد کے متلاشی افراد پر اسرائیلی حملہ، 100 سے زائد افراد شہید

حماس کا کہنا ہے کہ وہ اصل میں طے شدہ جنگ بندی کے لیے پرعزم ہے جسے دوسرے مرحلے میں منتقل کرنے کے لیے طے کیا گیا تھا، جس کا مقصد جنگ کا مستقل خاتمہ ہے اور اس نے 42 دن کی جنگ بندی میں عارضی توسیع کے خیال کو مسترد کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق قاہرہ میں اسرائیلی وفد نے پہلے مرحلے میں 42 دن کی توسیع کی کوشش کی تھی جب کہ حماس جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں جانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کو غزہ کا ایک سینٹی میٹر علاقہ بھی نہیں لینے دیں گے، فلسطینی صدر

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ہفتے کے روز کہا کہ گروپ نے پہلے مرحلے میں توسیع کے اسرائیلی ’طریقہ کار‘ کو مسترد کر دیا۔

جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں، حماس نے 33 اسرائیلی یرغمالیوں کے ساتھ ساتھ 5 تھائی باشندوں کو ایک غیر طے شدہ رہائی میں واپس کیا، جس کے بدلے میں تقریباً 2,000 فلسطینی قیدیوں اور اسرائیلی جیلوں سے نظر بندوں اور غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے ان کے بعض مقامات سے انخلا شامل تھے۔

مزید پڑھیں: غزہ تک امدادی سامان پہنچنے دو، ورنہ بین الاقوامی قوانین کے مجرم گردانے جاؤ گے،آئی سی سی کی اسرائیل کو وارننگ

اصل معاہدے کے تحت دوسرے مرحلے کا مقصد بقیہ 59 یرغمالیوں کی رہائی، غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا اور جنگ کے حتمی خاتمے پر بات چیت کا آغاز دیکھنا تھا۔

تاہم، مذاکرات کبھی شروع نہیں ہوئے اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ لڑائی روکنے کے لیے اس کے تمام یرغمالیوں کو واپس کیا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل نے 602 فلسطینیوں کی رہائی مؤخر کردی، حماس کا شدید ردعمل

وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی میں تمام سامان اور رسد کا داخلہ روک دیا جائے گا اسرائیل ہمارے یرغمالیوں کی رہائی کے بغیر جنگ بندی کی اجازت نہیں دے گا۔

حماس نے اسرائیل کے اس اقدام کو ’بلیک میل‘ اور ’معاہدے کے خلاف بغاوت‘ سے تعبیر کیا ہے۔ ’ہم ثالثوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ معاہدے کے تحت تمام مراحل میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، یرغمالیوں کی واپسی کا واحد راستہ معاہدے پر عملدرآمد ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مچھر کچھ لوگوں کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ نئی تحقیق میں اہم اور حیران کن انکشاف سامنے آگیا

وزیراعظم شہباز شریف کیجانب سے امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط، پاکستان ثالث اور ضامن قرار

پیٹرول کی طلب میں کمی، قیمتوں میں کمی کی امیدیں بڑھ گئیں

’کِس می ہیئر‘، کولکتہ کی سڑک پر آسٹریلوی سیاح سے ہراسانی، ویڈیو وائرل

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت جاری، امریکا اور ایران 60 روز میں حتمی معاہدے پر مذاکرات کریں گے

ویڈیو

وزیراعظم شہباز شریف کیجانب سے امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط، پاکستان ثالث اور ضامن قرار

پاک سفارتکاری کی کامیابی، ایران امریکا امن معاہدے پر پشاور کے شہریوں کا خیرمقدم

اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کی خصوصی ’رن فار فن ریس‘، خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت

کالم / تجزیہ

’آپ پاکستان سے آئے ہیں؟‘

ویڈنگ ڈیٹیکٹیو یا خانگی جاسوسوں کے اچھوتے کام کا احوال

عین عشق کا المیہ