روس کے بعد یوکرین نے بھی 30 روزہ عارضی جنگ بندی پر اتفاق کرلیا

جمعرات 20 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یوکرین کے صدر زیلنسکی نے روس سے 30 روزہ عارضی اور محدود جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے جبکہ امریکا کے صدر ٹرمپ نے یوکرین کے معدنی ذخائرکے بعد توانائی تنصیبات پر ملکیت کی بھی خواہش ظاہر کی ہے۔

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ صدر ٹرمپ اور یوکرین کے صدر زیلنسکی کے درمیان فون پر شاندار گفتگو ہوئی۔ ٹرمپ کی یوکرینی ہم منصب سے ٹیلی فون پر ایک گھنٹے بات ہوئی ہے جس میں صدر زیلنسکی نے امریکی تعاون پر شکریہ ادا کیا اور اتفاق کیا ہےکہ روس کے توانائی انفراسٹرکچر پر حملے نہیں کیے جائیں گے۔

زیلنسکی نے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کے ساتھ جوہری پلانٹس کے حوالے سے تجویز پر بات چیت کی ہے۔ انہیں ٹرمپ کی طرف سے روس کے حق میں کسی قسم کی رعایت دینے کا دباؤ محسوس نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: ’اپنا منہ بند رکھو‘، ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر کے مابین زبانی جھڑپ کی ویڈیو وائرل

صدر ٹرمپ نے ٹیلیفونک گفتگو میں یوکرینی ہم منصب سے کہا کہ یوکرین کے توانائی انفراسٹرکچر کو محفوظ بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ ایٹمی اور الیکٹریکل پلانٹس سمیت توانائی تنصیبات امریکی ملکیت میں دے دی جائیں۔

تاہم یوکرینی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی تجویز قابل عمل نہیں کیونکہ یوکرین میں قائم یورپ کا سب سے بڑا انرجی پلانٹ Zaporizhzhia روس کے کنٹرول میں ہے۔ صدر ٹرمپ کی تجویز یوکرینی صدر کے اعلامیہ میں شامل بھی نہیں کی گئی۔

یہ بھی واضح نہیں کہ عارضی جنگ بندی کا آغاز کس تاریخ سے ہوگا۔ تاہم اس معاملے پر آئندہ چند روز میں تکنیکی ٹیمیں سعودی عرب میں ملاقات کریں گی جس میں عارضی جنگ بندی کا سلسلہ انرجی تنصیبات سے بڑھا کر اس میں بحیرہ اسود میں لڑائی بند کیے جانے کو بھی شامل کرنے پر بات کی جائےگی۔

مزید پڑھیں: یوکرینی صدر سے وائٹ ہاؤس میں جھڑپ کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان سامنے آگیا

وائٹ ہاؤس کے مطابق روس نے ایک روز قبل یوکرینی توانائی انفرا اسٹرکچر پر 30 روز کے لیے حملے نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی اور دونوں نے بُحیرہِ اسود میں جنگ بندی، مستقل امن کے لیے تکنیکی مذاکرات پر اتفاق کیا تھا۔

واضح رہے کہ یکم مارچ 2025 کو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد صحافیوں کے سوالوں کے جواب دینے کے دوران جھڑپ ہوگئی تھی جو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے زیلنکسی سے کہا تھا کہ آپ نے بہت باتیں کرلیں اب اپنا منہ بند رکھیں۔ اگر ہم نے اپنا فوجی سازوسامان نہ دیا ہوتا تو آپ کی جنگ 2 ہفتوں میں ختم ہوجاتی۔ آپ لوگ یہ جنگ نہیں جیت سکتے اور بڑی مشکل میں ہیں۔

اس پر زیلنکسی نے کہا تھا کہ وہ یہ بات جانتے ہیں۔ جناب صدر ہم شروع سے اس جنگ میں اکیلے ہیں۔ اس کے بعد زیلنکسی مزید کہنا چاہ رہے تھے لیکن ٹرمپ انہیں بار بار ٹوکتے اور بات کاٹتے رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم