سانحہ جعفر ایکسپریس کے بعد مسافروں کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟

بدھ 16 اپریل 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گزشتہ ماہ 11 مارچ کو جعفر ایکسپریس صبح 9 بجے کوئٹہ سے روانہ ہوئی جس پر 380 مسافر سوار تھے، دن ایک بجے پانیر اور مشکاف اسٹیشنز کے درمیان پٹری پر دھماکے سے ٹرین رکی اور اس دوران دہشتگردوں نے حملہ کرتے ہوئے مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے 12 مارچ کی شام کو آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں 190 مسافروں کو آزاد کرایا گیا، اس دوران 33 دہشتگرد بھی ہلاک کیے گئے، مسافروں میں سے 26 کو دہشتگردوں نے شہید اور 50 کو زخمی کیا۔

یہ بھی پڑھیے: جعفر ایکسپریس پر حملے میں امریکا کی جانب سے افغانستان کو دیا گیا اسلحہ استعمال ہونے کی تصدیق

اس سانحے کے بعد مسافروں کے تحفظ کے لیے حکومت نے بہت سے اقدامات کیے ہیں، ریلوے اسٹیشن کوئٹہ پر پاکستان ریلوے پولیس اور ایف سی کی نفری کو بڑھا دیا گیا جبکہ جعفر اور بولان ایکسپریس جو کہ کوئٹہ سے جیکب آباد کے درمیان چلتی ہے اس میں سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد میں 3 گنا اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ کوئٹہ ڈویژن کے مختلف ریلوے اسٹیشنز پر ایف سی تعینات کی گئی ہے اور پہاڑی علاقوں میں ایف سی اور پولیس کی چیک پوسٹ قائم کی گئی ہیں۔

وزارت ریلوے کے مطابق ریلوے اسٹیشن کوئٹہ سے سبی جانے والی جعفر ایکسپریس کے آگے اب ایک پائلٹ انجن روزانہ کی بنیاد پر چلایا جاتا ہے تاکہ آگے کے راستے کو جعفر ایکسپریس کے لیے صاف کیا جاسکے، جعفر ایکسپریس اور بولان ٹرین پر پاک فوج کے ایک کیپٹن، ایک سیکنڈ لیفٹیننٹ اور 20 ایف سی ایل کاروں کی تعیناتی کی جا رہی ہے جبکہ بلوچستان لیویز فورس کے 10 اہلکار بھی جعفر ایکسپریس پر تعینات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 50 ریلوے پولیس اہلکاروں کو کوئٹہ ڈویژن کے مختلف ریلوے اسٹیشنز پر تعینات کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد کیا ہوا؟ قائمہ کمیٹی کو دی گئی بریفنگ کی تفصیلات سامنے آگئیں

اس کے علاوہ چمن اور دیگر اسٹیشنز پر چلنے والی ٹرینوں پر بھی پاکستان ریلوے پولیس کے 5 اضافی اہلکاروں کو تعینات کیا جا رہا ہے، تمام ٹرینوں کے مسافروں کے سفر کو محفوظ بنانے کے لیے سیکیورٹی اہلکاروں کو جدید ترین ہتھیار اور واکی ٹاکی سیٹ فراہم کیے گئے ہیں، ٹرینوں کی آمد اور روانگی کے وقت ریلوے پولیس کے ایس ایچ اوز ذاتی طور پر ٹرینوں میں حاضر ہوتے ہیں اور سیکیورٹی اقدامات کا جائزہ لیتے ہیں۔

وزارت ریلوے کے مطابق پاکستان ریلوے انٹیگریٹڈ سیکیورٹی سسٹم پراجیکٹ متعارف کرایا جا رہا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اس پراجیکٹ کے لیے 3 ارب 10 کروڑ روپے کی رقم مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ اپ گریڈیشن آف انفراسٹرکچر کے نام پر ایک منصوبے کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 5 ارب 20 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش

’وہ اپنا ذہنی توازن کھو رہے ہیں‘، جھیل کا نام تبدیلی کرنے کے فیصلے پر امریکیوں کی ٹرمپ پر تنقید

عمران خان کے بچوں کی طرح غزہ کے قیدیوں کے بچوں کو بھی بولنے کا موقع دیں، خواجہ آصف کا اسکائی نیوز کو جواب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت

ویڈیو

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں