غزہ میں جنگ بندی کے خاتمہ پر اسرائیلی کارروائیوں میں ابتک 5 لاکھ لوگ بے گھر

جمعرات 17 اپریل 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ سے بڑی تعداد میں شہری ہلاک اور بے گھر ہو رہے ہیں جبکہ بنیادی ڈھانچے کی تباہی سے ضروری خدمات کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:غزہ کا گمنام ہیرو، پیاسوں تک پانی پہنچانے والا ابراہیم علوش

اقوام متحدہ کے امدادی شراکت داروں کا اندازہ ہے کہ 18 مارچ کے بعد اسرائیلی فوج کے احکامات پر تقریباً پانچ لاکھ لوگوں نے نقل مکانی کی ہے جن میں ہزاروں افراد جنگ بندی سے پہلے ہی کئی مرتبہ بے گھر ہو چکے ہیں۔

پناہ گزینوں کے لیے خیمے دستیاب نہیں

امدادی کارکنوں نے بتایا ہے کہ بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کے لیے خیمے دستیاب نہیں ہیں۔ جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں نقل مکانی کر کے آنے والے خاندانوں کو چند کمبل اور ترپالیں ہی فراہم کی جا سکی ہیں۔

گزشتہ ہفتے ‘اوچا’ کی ٹیم نے علاقے میں بے گھر لوگوں کے ٹھکانوں کا دورہ کر کے بتایا کہ وہاں بیشتر لوگ گنجان پناہ گاہوں میں مقیم ہیں جن کی خوراک، پانی اور ادویات تک رسائی نہایت محدود ہے۔

امدادی کارروائیوں پر پابندی

اقوام متحدہ کے امدادی شراکت داروں نے بتایا ہے کہ علاقے میں شدید غذائی قلت بڑھ رہی ہے جبکہ خصوصی خوراک وصول کرنے والے بچوں کی تعداد میں گزشتہ ماہ دو تہائی کمی آئی ہے۔

7 ہفتے سے غزہ میں کوئی امدادی سامان نہیں آیا

امدادی کی ترسیل پر پابندیوں کے باعث ہسپتالوں کو طبی سازوسامان کی فراہمی متاثر ہوئی ہے جس سے مریضوں اور زخمیوں کی زندگی خطرے میں ہے۔ 7 ہفتے سے غزہ میں کوئی امدادی سامان نہیں آیا اور علاقے میں عسکری کارروائیاں بڑھتی جا رہی ہیں، جس کے باعث امدادی کارکنوں کے لیے اپنا کام انجام دینا مشکل ہو گیا ہے۔

‘اوچا’ نے بتایا ہے کہ اسرائیل کے حکام طے شدہ امدادی کارروائیوں کی اجازت دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ آج 6 مقامات پر امدادی پہنچائی جانا تھی لیکن اسرائیلی حکام نے 2 کارروائیوں کے لیے ہی سہولت فراہم کی۔

خوراک کی قلت

امداد کی رسائی پر پابندیوں اور عدم تحفظ کے باوجود امدادی ادارے جنگ سے تباہ حال لوگوں کو مدد پہنچانے کی ہرممکن کوشش کر رہے ہیں۔ اجتماعی باورچی خانوں میں روزانہ 10 لاکھ کھانے تیار کیے جاتے ہیں لیکن یہ بڑے پیمانے پر غذائی ضروریات کی تکمیل کے لیے کافی نہیں کیونکہ غزہ کی 21 لاکھ آبادی کا انحصار امدادی خوراک پر ہے۔

‘اوچا’ نے کہا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت، شہریوں بشمول امدادی کارکنوں، طبی عملے اور ہسپتالوں کو جنگ سے تحفظ ملنا چاہیے اور شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری ہونی چاہییں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟