جاپان کے وزیر زراعت تاکو ایتو چاول کے بارے میں ایک متنازع بیان دینے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد میں پانی کے میٹرز کی تنصیب کے لیے جاپانی حکومت کا تعاون
تاکو ایتو انہوں نے بدھ کی صبح وزیراعظم اشیبا شگیرو کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا جنہوں نے مقبول سابق وزیر اعظم جونیچیرو کوئزومی کے صاحبزادے شنجیرو کوئزومی کو وزیر زراعت نامزد کردیا۔
تاکو ایتو نے اتوار کے روز کہا تھا کہ انہوں نے کبھی چاول نہیں خریدے کیونکہ وہ اسے اپنے حامیوں سے مفت حاصل کرتے ہیں اور ان کے پاس اتنا چاول ہے کہ وہ اسے فروخت بھی کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: جاپان نے پاکستان میں بچوں کی تعلیم کے لیے کتنی امداد کا اعلان کیا ہے؟
بعد ازاں انہوں نے اپنا یہ بیان واپس لے لیا تھا جو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب جاپان میں اس بنیادی اناج کی قیمت میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
وزیراعظم اشیبا نے کہا کہ تاکو ایتو نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ اگر ان کے بیان کے حوالے سے الجھن جاری رہی تو اس سے زرعی پالیسیوں پر عمل درآمد متاثر ہوگا لہٰذا میں نے ان کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔
اشیبا نے منگل کے روز پارلیمان کو بتایا تھا کہ ایتو کا بیان انتہائی نامناسب تھا اور انہوں نے ان کی تقرری کرنے والے کی حیثیت سے عوام سے معافی مانگی ہے۔
مزید پڑھیں: جاپان میں لاکھوں خالی آسامیاں، پاکستانی ہنرمندوں کے لیے بڑی خوشخبری
بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تاکو ایتو کا کہنا تھا وزیر اعظم کے ان کے بارے میں سخت الفاظ کے سبب انہوں نے وزارت سے استعفیٰ دیا ہے۔














