امریکا سے آیا پاکستانیوں کا وفد عمران خان سے ملاقات میں ناکام

ہفتہ 31 مئی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں مقیم پاکستانی ڈاکٹروں اور کاروباری افراد پر مشتمل ایک وفد، جو پاکستان کے دورے پر ہے، پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور اعلیٰ حکومتی حکام سے ملاقات کے لیے کی جانے والی کوششوں میں ناکام رہا۔

یہ بھی پڑھیں:آخری بال تک لڑیں، مطالبات پورے ہونے تک پیچھے نہیں ہٹیں گے، عمران خان کا جیل سے پیغام

انگریزی روزنامے میں شائع رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں 4 دن گزارنے کے بعد یہ وفد کسی بریک تھرو کے بغیر واپس لاہور لوٹ آیا ہے۔

اب تک کوششیں بے سود رہی ہیں

یہ وفد گزشتہ ہفتے پاکستان پہنچا تھا اور ان کی خواہش تھی کہ وہ اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیرِاعظم عمران خان سے ملاقات کرے اور پسِ پردہ سفارتکاری کے ذریعے اُن کے لیے کسی ممکنہ ریلیف کی راہ تلاش کرے، تاہم اب تک یہ کوششیں بے سود رہی ہیں۔

سینیئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ وفد نے ہفتے (آج) کو واپس امریکا روانہ ہونا تھا، مگر اب امکان ہے کہ وہ پاکستان میں اپنے قیام میں توسیع کرے گا، تاکہ آخری کوشش کے طور پر مطلوبہ ملاقاتیں ممکن بنائی جا سکیں۔

باضابطہ رابطہ یا تصدیق سامنے نہیں آئی

وفد کے ارکان کا ماننا ہے کہ عمران خان کو ان کی موجودگی کا علم ہے اور وہ ممکنہ طور پر ان سے ملاقات کے لیے تیار بھی ہو سکتے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی باضابطہ رابطہ یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:احتجاجی تحریک کا اعلان ہو چکا، چند دن میں لائحہ عمل دیں گے : جیل سے عمران خان کا پیغام

اس وفد کی ماضی میں بھی عمران خان اور بعض اعلیٰ حکام سے پسِ پردہ ملاقاتوں کی تاریخ رہی ہے۔ چند ماہ قبل کے دورے میں انہوں نے عمران خان اور اسلام آباد کے ایک اعلیٰ عہدیدار سے ’پُرسکون‘ ملاقاتیں کی تھیں، تاہم اس بار صورتحال مختلف ہے، اور وفد کسی اہم شخصیت سے رابطہ قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وفد کی بعض پی ٹی آئی رہنماؤں سے بات چیت جاری ہے، جن میں خیبرپختونخوا کے وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈا پور اور عمران خان کی بہن علیمہ خان شامل ہیں۔

عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مصالحت کی کوششیں

یہ وفد، جو کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مصالحت کی کوششیں کر رہا ہے، موجودہ سیاسی ماحول اور پی ٹی آئی اور اداروں کے درمیان کشیدگی کے باعث کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان اور بشریٰ بی بی کے لیے 2 روم کولر اڈیالہ جیل پہنچا دیے گئے

رپورٹ کے نطابق فوجی قیادت نے اپنی یہ پوزیشن دہرا دی ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں سے براہِ راست رابطہ نہیں کرے گی۔

پی ٹی آئی کی جانب سے اداروں پر تنقید، سوشل میڈیا پر جارحانہ مہمات، اور بیرون ملک خاص طور پر امریکا و برطانیہ میں لابنگ نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وفد کے ارکان کا یہ بھی ماننا ہے کہ پارٹی کی سخت گیر پالیسیوں نے مثبت مکالمے کے امکانات کو کم کر دیا ہے۔

خلیج مزید گہری ہوگئی ہے؟

وفد کی ملاقات طے نہیں ہو سکی اور کسی پیش رفت کا عندیہ بھی نہیں دیا گیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان خلیج مزید گہری ہو گئی ہے۔

وفد کا پاکستان میں قیام بڑھانے کا فیصلہ اس امید کا مظہر ہے کہ شاید کوئی مصالحت ممکن ہو، لیکن فی الحال یہ تعطل برقرار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں