ہمیں این ایف سی ایوارڈ میں ہمارا جائز حصہ دیا جائے، مزمل اسلم

ہفتہ 14 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور میں مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں کہا کہ صوبہ اس وقت شدید مالی دباؤ کا شکار ہے اور وفاق کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیے جانے کے باعث کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا بجٹ پیش، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10، پنشن میں 7 فیصد اضافہ

ان کا کہنا تھا کہ وفاق کو ہم ایک نظر نہیں بھاتے،وفاق نے خیبرپختونخوا کو نظر انداز کیا ،صوبے پر دباؤ ہے اور ہم سے کہا جا رہا تھا کہ اقدامات کیے جائیں، مگر ہم نے نگراں حکومت پر الزامات لگانے کے بجائے عملی فیصلے کیے۔

مشیر خزانہ نے بتایا کہ خیبر پختونخوا نے رواں مالی سال میں تاریخی کارکردگی دکھائی، خاص طور پر نان ٹیکس ریونیو کے شعبے میں۔ ان کے مطابق صوبائی ریونیو رواں سال اپنی بلند ترین سطح پر رہا جبکہ وفاق سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کو 90 ارب روپے کم دیے گئے۔

مزمل اسلم نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر صوبائی حکومت نے ترقیاتی عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، چاہے وفاق مدد کرے یا نہ کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اے آئی پی میں 20 ارب روپے خود سے فراہم کیے، فاٹا کے لیے 108 ارب کا تخمینہ تھا، جس میں سے 70 ارب روپے ہم نے دیے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کا قرضہ 709 ارب روپے تھا، جس میں سے 150 ارب روپے کی ادائیگی کی جا چکی ہے اور اب صوبے کو اس پر منافع بھی ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم قرض لیں گے، مگر بہتری اور ترقی کے لیے۔

یہ بھی پڑھیں:مائنز اینڈ منرلز سب صوبوں کا معاملہ ہے، مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

صوبے کا رواں بجٹ 2000 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ جاری اخراجات 1415 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ بجٹ میں 157 ارب روپے سرپلس شامل ہے۔

وفاق سے مالی معاملات پر بات کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے وفاق کا بار بار پیچھا کیا، جس پر 3 اہم معاملات طے پائے، گیارہواں این ایف سی ایوارڈ اگست میں بلایا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں واجبات کا مطالبہ کیا گیا، اور ضم اضلاع کے لیے 70.4 ارب روپے کی فراہمی کا اشارہ ملا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے کو بجلی کے خالص منافع کی مد میں ہر تین ماہ بعد 3 ارب روپے دیے گئے، جبکہ مجموعی طور پر 170 ارب روپے قرض لینے کی تیاری ہے۔ جاری اخراجات پہلے 66 ارب روپے تھے جو اب بڑھا کر 80 ارب روپے کر دیے گئے ہیں، جبکہ مزید 10 ارب کی فراہمی کی یقین دہانی بھی وفاق نے کرائی ہے۔

صوبائی بجٹ میں سرکاری ملازمین کے لیے الاؤنسز میں بھی خاص توجہ دی گئی۔ مشیر خزانہ کے مطابق الاؤنسز میں 15 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا جس سے مجموعی ادائیگی 27 ارب روپے تک جا پہنچی۔

صوبائی اے ڈی پی (سالانہ ترقیاتی پروگرام) 120 ارب روپے سے بڑھا کر 195 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ اس میں 500 ارب روپے سے زائد مالیت کی نئی اسکیمیں شامل کی گئی ہیں۔ ضم شدہ اضلاع کے لیے وفاق نے 65 ارب روپے دیے جبکہ صوبائی حکومت نے اس کا ہدف 120 ارب روپے رکھا ہے۔

انہوں نے تنقیدی انداز میں کہا کہ وہ اڑان پروگرام کی بات کرتے تھے، مگر اب اس کے پر ہی کٹ گئے۔

اختتام پر انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہمیں این ایف سی ایوارڈ میں ہمارا جائز حصہ دیا جائے، یہی ہمارے لیے سب سے بہتر ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نگاہے یا رسول اللہ نگاہے

معروف PUBG کنٹینٹ کریئیٹر فاروق احمد کا انتقال کیسے ہوا؟ موت کی وجہ سامنے آگئی

اسحاق ڈار کی برطانوی قومی سلامتی مشیر سے ملاقات، خطے کی سیکیورٹی اور پاک برطانیہ تعاون پر تبادلہ خیال

انڈونیشیا: بدعنوانی کے خلاف ہزاروں افراد پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ گئے، پولیس کے ساتھ جھڑپیں

بچوں کے لیے فیس بک، انسٹاگرام پر بڑا کریک ڈاؤن، روزانہ صرف 2 گھنٹے استعمال کی اجازت

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ