مظاہرین نے کرپشن میں ملوث حکام کے خلاف سخت کارروائی اور بدعنوانی سے منسلک اثاثے ضبط کرنے کا قانون منظور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس نے ممکنہ کشیدگی کے پیش نظر دارالحکومت جکارتہ میں ہزاروں اہلکار تعینات کیے۔
انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ہزاروں افراد نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرتے ہوئے بدعنوان سرکاری اہلکاروں کے خلاف سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا۔ جمعرات کو ہونے والا یہ احتجاج گزشتہ سال حکومت مخالف مظاہروں میں ہونے والے ہنگاموں کی پہلی برسی کے موقع پر کیا گیا، جن میں تقریباً 10 افراد ہلاک اور 7 ہزار کے قریب گرفتار ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے انڈونیشیا: سنگین جرائم میں ملوث 72 سالہ صدارتی امیدوار نوجوانوں کے ’پیارے دادا‘ کیوں بنے؟
مظاہرین کا بنیادی مطالبہ 2008 میں پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اس قانون کی منظوری ہے جس کے تحت ریاست کو بدعنوانی سے حاصل کیے گئے اثاثے ضبط کرنے کا اختیار مل سکے گا۔ بعض مظاہرین نے کرپشن میں ملوث حکام کے لیے سزائے موت کا مطالبہ بھی کیا۔ احتجاجی گروپ ’یونائیٹڈ پٹی کمیونٹی الائنس‘ کے رہنما سوپریانو کے مطابق بعض ارکانِ پارلیمنٹ نے مظاہرین کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران یقین دہانی کرائی کہ اگر یہ قانون 15 دسمبر تک منظور نہ ہوا تو وہ مستعفی ہوجائیں گے۔

مظاہرے میں مختلف جامعات کے تقریباً 200 طلبہ بھی شریک ہوئے، جنہوں نے مبینہ بدعنوانی اور بار بار فوڈ پوائزننگ کے واقعات سے متاثر مفت اسکول کھانے کے پروگرام کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ طلبہ نے معاشرے کی ’عسکریت پسندی‘ ختم کرنے اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں کم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ طلبہ کے نمائندے نے کہا کہ 27 اگست کا انتخاب گزشتہ سال ہونے والے فسادات اور دیگر واقعات کی یاد میں کیا گیا، تاہم اس بار ان کا مقصد ہنگامہ آرائی نہیں بلکہ اپنے مطالبات حکومت تک پہنچانا ہے۔
پولیس نے پارلیمنٹ کے احاطے کے دروازے بند کرکے مظاہرین کو دن کے بیشتر حصے میں باہر روکے رکھا۔
یہ بھی پڑھیے انڈونیشیا: خواتین کا جھاڑو اٹھا کر حکومت کے خلاف انوکھا احتجاج
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رات کے وقت بعض مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر اشیا پھینکیں، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ ایک پولیس چوکی اور موٹر سائیکل کو بھی آگ لگا دی گئی جبکہ کئی افراد کو اسٹریچر پر منتقل کیا گیا۔ جکارتہ پولیس نے احتجاج سے قبل ممکنہ ’اشتعال انگیزی‘ کے شبہے میں 65 افراد کو حراست میں لیا، جبکہ مجموعی طور پر 18 ہزار 500 اہلکار تعینات کیے گئے۔ چیف سکیورٹی وزیر دجمارِی چانیاغو نے کہا کہ پولیس کی تعیناتی کا مقصد آزادی اظہار کے حق کو محدود کرنا نہیں بلکہ مظاہرین کو پرامن انداز میں اپنے مطالبات پیش کرنے میں مدد دینا ہے۔














