ایران اسرائیل کشیدگی: پاکستان میں ایرانی مصنوعات کا کاروبار کرنے والے افراد کتنے متاثر ہو سکتے ہیں؟

پیر 16 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی یا ممکنہ جنگ کی صورت میں پاکستان میں ایرانی مصنوعات کی درآمد پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ افراد جو ایرانی اشیا جیسا کہ پیٹرول، چاکلیٹس، کوکنگ آئل، بسکٹس، خشک میوہ جات، الیکٹرانکس وغیرہ کا کاروبار کرتے ہیں، وہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

ایرانی مصنوعات کا کاروبار کرنے والے پاکستانی کتنے متاثر ہو سکتے ہیں؟ اس حوالے سے جاننے کے لیے ’وی نیوز‘ نے چند ایسے افراد سے بات کی جو راولپنڈی باجوڑ پلازہ میں ایرانی مصنوعات فروخت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں پاکستان اور بھارت کی جنگ رکوائی، ایران و اسرائیل کے درمیان بھی جلد معاہدہ ہوگا : ڈونلڈ ٹرمپ

’کشیدگی جاری رہی تو ہمارا کاروبار متاثر ہوگا‘

راولپنڈی میں ایرانی خشک میوہ جات کے ہول سیلر فضل اصغر نے وی نیوز کو بتایا کہ ایرانی بادام، پستہ اور کھجوریں ہماری دکان کی پہچان ہیں، لیکن اسرائیل ایران کشیدگی شروع ہونے کے بعد اب ایران سے ایرانی میوہ جات درآمد کرنا مشکل ہو جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ پہلے سے جو مال منگوایا ہوا ہے، وہ بھی سرحد پر ہی رک جائے گا، اب یہ کشیدگی کب تک جاری رہے گی اس حوالے سے ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ ’ہم جیسے کاروباری افراد کے لیے نہایت مشکل ہو جائے گی، کیونکہ پاکستان میں ایرانی مصنوعات کے خریدار بڑی تعداد میں ہیں، اور کشیدگی بڑھنے کی صورت میں ہمارا کاروبار متاثر ہوگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو انہیں مجبوراً دوسرے ممالک سے مہنگا مال منگوانا پڑے گا یا پھر کشیدگی ختم ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہاکہ ایرانی خشک میوہ جات پاکستان میں خاصے مقبول ہیں اور ان کی عدم دستیابی سے مقامی مارکیٹ میں قلت اور قیمتوں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے، مگر شکر ہے کہ یہ کشیدگی سیزن میں شروع نہیں ہوئی، ورنہ ہمارا روزگار بہت بڑی طرح متاثر ہوتا۔

’حالات خراب رہے تو کاروبار کو بہت بڑا دھچکا لگے گا‘

ایرانی الیکٹرانکس کے ڈیلر ندیم جعفری نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا زیادہ تر سامان ایرانی بارڈر سے آتا ہے، اور اب جو کشیدگی ہے اس کی وجہ سے نہ صرف رسد متاثر ہوئی ہے بلکہ گاہک بھی پریشان ہوں گے، کیونکہ چھوٹے تاجر ہم سے سامان لے کر جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ ایرانی مال کی طلب تو ہے، لیکن اگر حالات خراب رہے تو کاروبار کو بہت بڑا دھچکا لگے گا۔ پاکستانی مارکیٹ میں ایرانی الیکٹرانکس کا ایک مخصوص حصہ ہے جو براہِ راست درآمدات پر منحصر ہے۔

انہوں نے کہاکہ پیٹرول، خشک میوہ جات اور الیکٹرانکس کے علاوہ ایرانی کوکنگ آئل، چاکلیٹس، بسکٹس اور گھریلو استعمال کی دیگر ایرانی اشیا بھی پاکستان کی مارکیٹ میں دستیاب ہوتی ہیں، اور مارکیٹ میں ان مصنوعات کی بڑی ڈیمانڈ بھی ہے۔ اس لیے ایران سے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر آنے والی ان مصنوعات کی سپلائی چین بھی موجودہ کشیدگی سے شدید متاثر ہو رہی ہے۔

’ایرانی اشیا پاکستانی مصنوعات کے مقابلے میں سستی ہیں‘

دکاندار حبیب اللہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنا مال کوئٹہ سے منگواتے ہیں، اور اس کشیدگی کی وجہ سے پاکستانی چھوٹے تاجر بھی شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر صورتحال یوں ہی برقرار رہی تو یہ اشیا مارکیٹ سے غائب ہو جائیں گی یا پھر ان کی قیمتیں بڑھ جائیں گی، جس سے گاہک متاثر ہوگا، اور گاہک ایرانی مصنوعات کے بجائے پاکستانی مصنوعات کو ترجیح دے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ایرانی مصنوعات پاکستانی مصنوعات کے مقابلے میں سستی ہیں، جو چیز پاکستان میں 200 روپے کی ہے، ایرانی وہی چیز گاہک کو 100 سے 150 روپے میں بآسانی مل جاتی ہے۔ اس لیے عام صارفین جو ایرانی مصنوعات کو ان کی قیمت اور معیار کی وجہ سے ترجیح دیتے ہیں، انہیں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں ’نیتن یاہو خطے کو جنگ کی آگ میں جھونکنے پر تُلا ہوا ہے‘، ترک صدر کا ایران سے اظہار یکجہتی

انہوں نے کہاکہ اس کشیدگی کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان میں ایرانی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ ان کی دستیابی بھی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری حضرات کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا جو ان مصنوعات پر انحصار کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم