اسرائیل ایران تصادم: نیتن یاہو کی ڈوبتی سیاست کو کنارہ مل گیا

جمعرات 19 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پچھلے ہفتے عدم اعتماد کی 2 قراردادوں سے گزرے، لیکن ایران کے خلاف تازہ فضائی حملوں نے ان کی سیاسی پوزیشن مضبوط کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کا سب سے بڑا میزائل حملہ، آرمی کمانڈ و انٹیلیجنس ہیڈکوارٹر اور اسرائیلی اسٹاک ایکسچینج کی عمارت نشانہ بن گئی

ایک قرارداد کو لڑائی سے چند دن پہلے الٹایا گیا، ورنہ پارلیمنٹ تحلیل ہو کر نئی انتخابات ہو سکتے تھے، جس سے نیتن یاہو کی حکومت خطرے میں تھی۔ لیکن جب اسرائیل نے ایران کو نشانہ بنایا، تو اپوزیشن پارٹیوں نے بھی حکومتی مؤقف کا ساتھ دیا۔

سب کا جواب جنگ ہے

اپوزیشن رہنما یأر لاپیڈ نے سابقہ جنگ بندی کی مخالفت کے بعد اب نیتن یاہو کی ایران پالیسی کی حمایت کی، جبکہ سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے واضح کہا کہ اس معاملے میں کوئی دائیں، کوئی بائیں، کوئی اپوزیشن یا جماعت نہیں، سب کا جواب جنگ ہے۔

تنظیم ’حدش-تعال‘ کی پارلیمانی رکن عیدہ تومہ نے کہا کہ سیاسی جماعتیں سنجیدگی سے حکومت کے ساتھ کھڑی ہیں، سوائے چند فلسطینی و بائیں بازو کے رہنماؤں کے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی بچوں کی حفاظت کے نام پر ہر کوئی نیتن یاہو کی پالیسی کی حمایت کرتا نظر آ رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے تک سیاسی منظرنامہ مختلف تھا۔ نیتن یاہو کے زیرِ نگرانی گزرنے والی غزہ جنگ نے پارلیمنٹ، عوام اور فوجی حلقوں میں مخالفت بھڑکا دی تھی، جبکہ احتساب اور بدعنوانی کے مقدمات بھی زیر التوا تھے۔ مگر ایران کے خلاف جنگ نے سب کی توجہ اپنے گرد مرکوز کر دی۔

نیتن یاہو کی حکمت عملی کی حمایت

اسرائیل میں عوامی پول میں نیتن یاہو کی حکمت عملی کو وسیع حمایت مل رہی ہے۔ میڈیا، خاص طور پر ’ٹائمز آف اسرائیل‘، ایران پر حملوں کو جنگی جرم کی بجائے قانونی اقدام قرار دے رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو ہمیشہ سے ایران کو ’منفی قوت‘ کے طور پر پیش کرتے آئے ہیں، اور اب یہ پیغام مضبوط ہو گیا ہے۔

جیتنا آسان ہے مگر ۔۔۔!

اب صورتِ حال یہ ہے کہ چیئرمین نے نیتن یاہو کی قیادت کو مضبوط بنایا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جیتنا آسان ہے مگر جنگ کو سیاسی اور فوجی اعتبار سے مکمل کرنا سب کے بس کی بات نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:’کوئی نہیں جانتا میں کیا کرنے والا ہوں‘، ٹرمپ نے ایران پر حملے سے متعلق خاموشی اختیار کر لی

اگر جنگ نیتن یاہو کے طے کردہ اہداف کے مطابق ختم نہ ہوئی، یا ملک میں متاثرہ شہریوں کی تعداد بڑھی، تو عوام اور سیاسی حلقوں کا موڈ بدل سکتا ہے۔ مگر اگر حالات تبدیل نہ ہوئے اور جنگ جاری رہی، تو صرف امریکہ کی مضبوط مداخلت ہی سیاسی توازن بدل سکتا ہے۔

بشکریہ: الجزیرہ

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم