صدرٹرمپ کا ‘رجیم چینج’ کا نعرہ، ایران کو امریکی وارننگ

پیر 23 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ حالیہ فضائی حملوں کا مقصد ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا نہیں تھا بلکہ صرف جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کا عندیہ دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ریجیم چینج کہنا سیاسی طور پر درست نہیں، لیکن اگر موجودہ ایرانی حکومت ایران کو دوبارہ عظیم نہیں بنا سکتی تو پھر رجیم چینج کیوں نہ ہو؟

یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ امریکا ایران کی حکومت کو گرانے کی کوئی کوشش نہیں کر رہا، وزیر دفاع نے وضاحت کی کہ یہ کارروائی حکومت کی تبدیلی کے لیے نہیں بلکہ جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کے لیے تھی۔

آپریشن مڈنائٹ ہیمر

ایرانی جوہری تنصیبات پر کیے گئے ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کی منصوبہ بندی خفیہ رکھی گئی تھی، صرف چند افراد کو واشنگٹن اور امریکی سینٹرل کمانڈ میں اس کا علم تھا، جنرل ڈین کین کے مطابق، سات بی2  بمبار طیارے امریکا سے پرواز کرتے ہوئے ایران میں داخل ہوئے اور فردو جوہری مرکز پر 14 بنکر بسٹر بم گرائے۔

کل 75 درست نشانہ زن ہتھیار، بشمول 25 سے زائد ٹام ہاک میزائل داغے گئے، اس کارروائی میں 125 سے زائد فوجی طیارے شامل تھے جنہوں نے ایران کے 3 جوہری مراکز کو نشانہ بنایا۔

خطے میں تناؤ میں اضافہ

یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی غزہ، لبنان اور شام کی صورتِ حال کے باعث کشیدگی کا شکار ہے۔ اس حملے نے خطے کو مکمل جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فردو مرکز پر 30 ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کی تباہی خلا سے بھی دیکھی جا سکتی ہے، امریکی حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے ایران کا جوہری پروگرام کئی سال پیچھے چلا گیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کا بڑا نقصان ہوا ہے، جبکہ ایران نے اسرائیل پر میزائل داغ کر جوابی کارروائی کی، جس میں تل ابیب میں کئی افراد زخمی اور عمارات تباہ ہوئیں۔ تاہم ایران نے تاحال امریکا کے خلاف بڑے پیمانے پر کوئی براہِ راست ردعمل نہیں دیا۔

مزید حملوں کا انکار

امریکی فوج نے خطے میں اپنے فوجیوں کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی بڑھا دی ہے، جن میں عراق اور شام میں موجود اہلکار بھی شامل ہیں، پینٹاگون کے مطابق مزید حملوں کی فی الحال کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی، البتہ اگر ایران نے ردعمل دیا تو مزید اہداف موجود ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر کی جانب سے جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی براہِ راست حکم سامنے نہیں آیا، لیکن یہ بات ’غیر متعلقہ‘ ہے۔

ٹرمپ نے اگرچہ ماضی میں بیرونی جنگوں میں مداخلت سے گریز کی بات کی تھی، لیکن ایران پر براہ راست حملہ کر کے انہوں نے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے، جس سے امریکا اور ایران کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم