آسٹریلوی خاتون ایرن پیٹرسن پر جرم ثابت ہوگیا ہے کہ اس نے اپنی سابقہ ساس، سسر سمیت 3 سسرالی رشتہ داروں کو جان بوجھ کر زہریلے مشروم کھلا کر قتل کیا تھا۔
یہ واقعہ آسٹریلیا کے ایک چھوٹے سے قصبے غربی وکٹوریا میں پیش آیا، جہاں 50 سالہ ایرن پیٹرسن پر اپنے سابق سسرال والوں کو ’زہریلے مشروم‘ پکا کر دوپہر کے کھانے میں کھلانے کا الزام عائد کیا گیا۔ اس نے اپنی سابقہ ساس، سسر اور دونوں بچوں کو ایک خوشگوار ملاقات کے لیے مدعو کر رکھا تھا، ان کے لیے جو کھانا بنایا اس میں مشروم کی ڈش بھی شامل تھی۔
کیا ہوا تھا؟
یہ واقعہ اگست 2022 میں پیش آیا، جب ایرن نے اپنے سسرال والوں کو مشروم کے ساتھ کھانا پیش کیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس کھانے میں جو مشروم استعمال کیے گئے وہ ’ڈیٹھ کیپ مشروم‘ تھے، جو دنیا کے سب سے زہریلے مشرومز ہیں۔ ان مشرومز کا زہر انسانی جگر کو شدید نقصان پہنچاتا ہے، اور علاج نہ ہونے کی صورت میں موت واقع ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے جاپان میں 9 افراد کو قتل کرنے والے ’ٹوئٹر کلر‘ کو پھانسی دیدی گئی
کھانے کی اس محفل میں مجموعی طور پر 8 افراد شریک تھے۔ ایرن پیٹرسن(مجرمہ)، اس کے 2بچے، اس کے سسر اور ساس، سسر کے سگے بھائی اور ساس کی سگی بہن۔ ایرن نے اپنے سابقہ شوہر سائمن پیٹرسن کو بھی مدعو کیا تھا تاہم اس نے مصروفیات کےباعث لنچ میں شریک ہونے سے معذرت کرلی۔
کھانے کے بعد، ایرن کی سابقہ ساس، ان کی بہن اور سسر تینوں شدید بیمار ہو گئے اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعد میں تینوں کی موت واقع ہو گئی۔ ایرن کے بچوں کو بھی شدید بیمار حالت میں اسپتال داخل کرایا گیا، تاہم وہ کسی طرح بچ گئے۔
تحقیقات اور الزامات
ابتدائی طور پر، ایرن نے دعویٰ کیا کہ وہ مشروم کسی مقامی سپر مارکیٹ سے خرید کر لائی تھی اور ان میں سے کوئی بھی زہریلا نہیں تھا۔ لیکن تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ وہ مشروم جو ایرن نے استعمال کیے تھے، وہ ’ڈیٹھ کیپ‘ تھے، جو اکثر ان لوگوں کے لیے مہلک ثابت ہوتے ہیں۔
پولیس نے جب اس واقعے کی گہرائی سے تحقیقات کیں، تو پتا چلا کہ ایرن کی سابقہ ازدواجی زندگی میں بھی کئی تنازعات اور مسائل تھے۔ اپنے شوہر سے طلاق کے بعد وہ سسرال والوں سے بددل تھی۔
عدالتی کاروائی کیا ہوئی؟
ایرن پیٹر سن کے خلاف قتل اور زہر دینے کے الزامات عائد کیے گئے۔ عدالت نے اس پر قتل کا الزام ثابت ہونے کے بعد اس کو مجرم قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیے اپنے پیاروں کا بدلہ لینے کے لیے خاتون نے 40 گینگسٹرز کیسے قتل کیے؟
دفاع میں ایرن نے کہا تھا کہ وہ صرف ایک سادہ سا کھانا بنا رہی تھی، اور اس کا ارادہ کسی کو نقصان پہنچانے کا نہیں تھا۔ تاہم، عدالت نے اس کی دلیل کو مسترد کر دیا اور فیصلہ دیا کہ یہ ایک سوچی سمجھی واردات تھی۔
کیس کو بین الاقوامی شہرت کیوں ملی؟
یہ کیس عالمی سطح پر مشہور ہوا، کیونکہ زہریلے مشروم سے قتل ایک نیا اور انتہائی نایاب جرائم کا معاملہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی لوگوں میں مشروم کی شناخت اور زہر کے اثرات کے بارے میں آگاہی بھی بڑھ گئی۔












