کوئٹہ سے اسلام آباد جانیوالی نجی ایئر لائن کی پرواز حادثے سے بال بال بچی، طیارے میں اچانک غیر متوقع جھٹکوں نے مسافروں کو خوف و ہراس میں مبتلا کردیا. صدر سپریم کورٹ بار میاں رؤف عطا نے وزارت ہوا بازی سے مطالبہ کیا ہے کہ نجی ایئرلائن کی تمام پروازیں فوری طور پر معطل کی جائیں اور اس کے خلاف تحقیقات کی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ایئرپورٹ پر نجی ایئر لائنز کی پرواز حادثے سے بال بال بچ گئی، مسافروں کی چیخیں
کوئٹہ سے اسلام آباد روانہ ہونے والی نجی ایئرلائن کی پرواز میں اس وقت شدید ہنگامہ برپا ہوگیا جب رن وے پر طیارہ اچانک جھٹکوں کا شکار ہو کر بے قابو ہوگیا۔ اس واقعے پر سپریم کورٹ بار کے صدر میاں رؤف عطا نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور نجی ایئرلائن پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
میاں رؤف عطا نے بتایا کہ طیارے کی روانگی سے قبل اچانک غیر متوقع جھٹکوں نے مسافروں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا۔ ایک مسافر بے ہوش ہوگیا جبکہ ایک خاتون کو فوری طبی امداد فراہم کرنا پڑی۔ ان کے مطابق طیارہ تقریباً 2 گھنٹے تاخیر کا شکار ہوا، اور بالآخر پرواز منسوخ کر دی گئی۔
انہوں نے اس واقعے کو نجی ایئرلائن کی کھلی لاپرواہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی غفلت سے مسافروں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی گئیں۔ میاں رؤف عطا نے کہا کہ خوش قسمتی سے اس واقعے میں تمام مسافر زندہ سلامت بچ نکلے، لیکن یہ ایک سنگین انتباہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سے لاہور پہنچنے والی نجی ایئرلائن کی پرواز کی ہنگامی لینڈنگ
سپریم کورٹ بار کے صدر نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ نجی ایئرلائن کی تمام پروازوں کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور وزارت ہوا بازی اس واقعے کی شفاف تحقیقات کروائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ایئرلائن کی تیاریوں اور حفاظتی اقدامات پر کئی سنگین سوالات اٹھتے ہیں، اور اس روٹ کو کسی دوسری قابل اعتماد ایئرلائن کے سپرد کیا جانا چاہیے۔













