امریکی فیڈرل اپیل کورٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے نیویارک کی جیوری کے اُس فیصلے کو برقرار رکھا ہے، جس میں ٹرمپ کو مصنفہ ای جین کیرول سے جنسی زیادتی اور جھوٹ بولنے کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کو جنسی زیادتی اور ہتک عزت کے الزام میں 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم
3 رکنی اپیل بینچ نے جمعرات کو اپنا فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ ضلعی عدالت نے مقدمے کے دوران کسی قانونی غلطی کا ارتکاب کیا یا اُن کے حقوق متاثر ہوئے۔
یہ مقدمہ 1996 کے اس واقعے پر مبنی تھا، جس میں ای جین کیرول نے الزام لگایا کہ ٹرمپ نے نیویارک کے برگڈورف گڈمین ڈیپارٹمنٹ اسٹور میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔

اس الزام کے بعد 2023 میں مین ہٹن کی ایک جیوری نے متفقہ طور پر فیصلہ سنایا کہ ٹرمپ نے کیرول کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی اور اس کے بدلے میں 5 ملین ڈالر ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے 2005 کی وہ مشہور ’ Access Hollywood ‘ ویڈیو بھی بطور شہادت قبول کی تھی، جس میں ٹرمپ خواتین کے ساتھ نازیبا سلوک کی باتیں کرتے سنائی دیے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ ٹیرف سے بچنے کے لیے ایپل نے 15 لاکھ آئی فون بھارت سے امریکا کیسے منگوائے؟
علاوہ ازیں 2 دیگر خواتین کی گواہی کو بھی بطور ثبوت شامل کیا گیا، جنہوں نے ماضی میں ٹرمپ پر جنسی حملوں کے الزامات لگائے تھے۔
ٹرمپ نے ان شواہد کی بنیاد پر اپیل کی تھی کہ ان کا مقدمے سے کوئی تعلق نہیں، تاہم اپیل کورٹ نے مؤقف مسترد کر دیا۔
Thursday, July 10th, 2025
So long, Old Man! The United States Court of Appeals, 2nd Circuit, bids thee farewell. pic.twitter.com/yjqrRsPtPT
— E. Jean Carroll (@ejeancarroll) July 10, 2025
کیرول نے عدالتی فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اظہارِ مسرت کرتے ہوئے لکھاکہ الوداع، بوڑھے آدمی! اپیل کورٹ نے تمہیں خیر باد کہہ دیا‘۔
پس منظر:
ای جین کیرول نے 2019 میں پہلی بار ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام لگایا، جس کے بعد ٹرمپ نے انہیں جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں جانتے تک نہیں اور یہ سب کچھ محض کتاب بیچنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

بعد ازاں جنوری 2024 میں ایک اور جیوری نے ٹرمپ کو کیرول کے خلاف ہتک آمیز بیانات دینے کا مجرم قرار دیتے ہوئے 83.3 ملین ڈالر ہرجانے کی سزا سنائی تھی۔













