سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب وہ ہماری عمر کے ساتھ جسمانی تبدیلیوں کا تفصیل سے مطالعہ کرسکتے ہیں کیونکہ برطانیہ کے ایک لاکھ رضاکاروں کے ایک ارب سے زیادہ اسکینز جمع کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کینسر ہوگا یا نہیں، یہ بات لائف اسٹائل کیسے طے کرتا ہے؟
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے سب سے بڑے انسانی امیجنگ منصوبے نے اپنے ہدف کو حاصل کر لیا ہے اور ایک لاکھ افراد کے دماغ، دل اور دیگر اعضا کے اسکین مکمل کر لیے ہیں۔ یہ منصوبہ ایک بڑی تحقیق کا حصہ ہے جسے 11 سال سے جاری رکھا گیا تھا۔
یو کے بائیوبینک کی چیف سائنسدان پروفیسر ناؤمی ایلن نے کہا ہے کہ تحقیقی ٹیمیں اب اس امیجنگ ڈیٹا کو استعمال کر رہی ہیں تاکہ بیماریوں کی ابتدائی تشخیص کی جا سکے اور علاج کو پہلے مرحلے میں ہی ٹارگٹ کیا جا سکے۔
یہ ڈیٹا دنیا بھر کے تحقیقاتی گروپوں کو کم قیمت پر دستیاب کیا جا رہا ہے تاکہ وہ دل کی بیماریوں، کینسر اور دیگر عام بیماریوں کی روک تھام کے نئے طریقے دریافت کرسکیں۔
مزید پڑھیے: دنیا کی سب سے طاقتور برین چپ نے انسانی آزمائش میں کامیابی حاصل کر لی
اسٹیو وہ شخص ہے جن کا اسکیننگ میں نمبر ایک لاکھ ہے۔ وہ حال ہی میں سیلز کے شعبے سے ریٹائر ہو چکے ہیں اور اب اپنی بیٹی کے چیریٹی ادارے میں مدد کرتے ہیں۔ بی بی سی کی ٹیم نے اس لمحے کی عکاسی کی جب اسٹیو کو ایک فل باڈی ایم آر آئی اسکینر میں داخل کیا گیا اور ان کے دماغی خلیات، خون کی شریانیں، ہڈیاں اور جوڑ اسکرینوں پر ظاہر ہوئے۔
اسٹیو نے کہا ککہ میری والدہ کو چند سال قبل ابتدائی مرحلے کی ڈیمینشیا کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ اچھی حالت میں نہیں ہیں۔ اس وجہ سے میں چاہتا ہوں کہ اگلی نسل تحقیق سے فائدہ اٹھائے اور لوگ میری طرح کے تجربات سے سیکھیں۔
مزید پڑھیں: نوجوانوں میں دل کی بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ، امراض قلب کے ماہرین کا انتباہ
یہ منصوبہ نہ صرف بیماریوں کی ابتدائی شناخت کے حوالے سے اہم ہے بلکہ دنیا بھر کے محققین کو اس اہم ڈیٹا تک رسائی فراہم کرکے وہ نئی راہیں کھول رہا ہے جو صحت کی دیکھ بھال میں انقلاب برپا کرسکتی ہیں۔














