اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر نے کہا ہے کہ افغانستان کے صوبہ بدخشان میں مسلح جھڑپوں اور پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے باعث ملک کے اندر مزید لوگوں کے بے گھر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جبکہ ایران اور پاکستان سے افغان شہریوں کی واپسی اور بے دخلی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
یو این ایچ سی آر نے منگل 25 اگست کو جاری اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ہرات میں خواتین پر مرکوز سرگرمیوں کے نفاذ میں تبدیلیوں سمیت انتظامی اور آپریشنل پابندیوں کے باعث انسانی امداد اور مختلف پروگراموں کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔
درگیریها در ولسوالی زیباک بدخشان در امتداد مرز افغانستان و پاکستان ادامه دارد و مخالفان طالبان مواضع ثابت ایجاد کردهاند. همزمان، شماری از جوانان نخبه پشتون درباره افزایش شکافهای قومی و در خطر قرار گرفتن تمامیت ارضی افغانستان هشدار دادهاند.
حمید فهیم گزارش میدهد. pic.twitter.com/MwgsLUb0gp
— افغانستان اینترنشنال (@AFIntlBrk) August 27, 2026
رپورٹ کے مطابق افغانستان کے مختلف علاقوں میں مسلح مخالف گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، جن میں بدخشان اور دیگر علاقوں میں ہونے والی جھڑپیں بھی شامل ہیں۔ ان حالات نے ملک کے اندر ممکنہ طور پر مزید لوگوں کی نقل مکانی کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی کے پہلے نصف میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور سرحدی علاقوں میں مسلح جھڑپیں، گولہ باری اور فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کے واقعات پیش آئے، بعد ازاں سرحدی لڑائی میں کمی آئی تاہم دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بدستور کشیدہ رہے۔
ایران میں افغان پناہ گزینوں کی ملک بدری اور واپسی کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ قانونی رہائشی دستاویزات سے محروم افغان شہریوں کے خلاف اقدامات بھی سخت کیے گئے ہیں، دستاویزات کی تجدید میں مشکلات اور بگڑتے سماجی و معاشی حالات نے بھی افغان برادریوں کو متاثر کیا ہے۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں سونے کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر کان کنی، بدخشاں کے پہاڑ اور مقامی زندگی متاثر
پاکستان میں بھی 10 جولائی سے افغان پناہ گزینوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے، اقوام متحدہ کے مطابق گرفتاریوں، چھاپوں اور ملک بدری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ مکان مالکان کی جانب سے دباؤ اور افغان کرایہ داروں کی بے دخلی نے بھی افغان خاندانوں میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا ہے۔
ادارے کے مطابق ایران میں غیر مستحکم حالات کے باوجود یو این ایچ سی آر نے تہران، مشہد، شیراز، کرمان اور دغارون سرحدی گزرگاہ پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، جہاں افغان شہریوں کے تحفظ سے متعلق جائزے، دستاویزات کے امور اور امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔














