ایئر انڈیا طیارہ حادثہ ابتدائی تحقیقات: کیا پائلٹ نے طیارے کے انجنوں کو فیول کی فراہمی بند کی؟

جمعرات 17 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایئر انڈیا کی لندن جانے والی بوئنگ 787 پرواز کے گزشتہ ماہ جون میں احمد آباد کے قریب ہونے والے المناک حادثے کی ابتدائی تحقیقات میں توجہ طیارے کے کیپٹن کی مبینہ کارروائی پر مرکوز ہے، جس میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ٹیک آف کے فوراً بعد فیول سوئچز بند کیے گئے، جس سے انجن رک گئے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، کاک پٹ وائس ریکارڈر میں پائلٹس کے درمیان اس حوالے سے مکالمہ ریکارڈ ہوا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ سوئچز کس نے بند کیے اور کیوں؟ انجن بند ہونے کے بعد طیارہ صرف 650 فٹ کی بلندی پر پہنچ پایا اور پھر رفتار و بلندی کی کمی کے باعث قابو سے باہر ہو کر گر گیا، جس سے 260 افراد جاں بحق ہوئے۔

مزید پڑھیں:  ’ایئر انڈیا کی ٹکٹ لو اور واپس جاؤ‘، سکھ فار جسٹس کی کینیڈین ہندو کمیونٹی پر تنقید

ابتدائی رپورٹ میں کوئی فنی خرابی یا مینٹیننس کی کوتاہی نہیں پائی گئی، اور نہ ہی بوئنگ یا انجن ساز کمپنی GE کو کوئی حفاظتی ہدایات جاری کی گئیں۔ حادثے نے کاک پٹ میں ویڈیو ریکارڈنگ کے مطالبے کو بھی تقویت دی ہے، جبکہ ایئر انڈیا کی ذیلی کمپنی پر دیگر حفاظتی خلاف ورزیوں کی تحقیقات بھی شروع ہو چکی ہیں۔

واضح رہے کہ 12 جون کو احمد آباد سے لندن جانے والی بوئنگ 787 ڈریم لائنر پرواز ٹیک آف کے فوراً بعد گر کر تباہ ہو گئی تھی، جس میں 241 مسافر اور عملہ ہلاک ہوا، جبکہ زمین پر موجود 19 افراد بھی جان سے گئے۔ مجموعی طور پر 260 افراد سانحے میں ہلاک ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں