دیامر حادثہ: سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے بچے کی لاش 3 روز بعد مل گئی

جمعرات 24 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بابوسر ٹاپ کے مقام پر سیلابی ریلے میں بہہ جانے والی ڈاکٹر مشعال فاطمہ کے 3 سالہ بیٹے عبد الہادی کی لاش 3 روز بعد مل گئی۔

گلگت بلتستان اسکاؤٹس نے اطلاع ملنے پر عبد الہادی کی لاش کو ایک نالے سے نکال کر چلاس کے اسپتال منتقل کیا۔

یہ بھی پڑھیں:دیامر: سیاحوں کی بس کھائی میں گرنے سے 6 افراد جاں بحق

اس سے قبل مقامی افراد نے شام 7 بجے کے قریب بابوسر کے نزدیک ڈاسر کے مقام پر لاش کو دیکھا اور فوراً حکام کو مطلع کیا۔

یہ اندوہناک واقعہ چند روز قبل پیش آیا تھا، جب لودھراں سے تعلق رکھنے والی ایک فیملی اسکردو سے واپسی پر بابوسر ٹاپ کے قریب سیلابی ریلے کی زد میں آگئی۔

اس حادثے میں ڈاکٹر مشعال فاطمہ اور ان کے دیور فہد اسلام جاں بحق ہوگئے تھے، جب کہ ڈاکٹر مشعال کا بیٹا عبد الہادی لاپتا ہو گیا تھا، جس کی لاش اب 3 دن بعد ملی ہے۔

متاثرہ خاندان کے ایک فرد نے بتایا کہ فہد اسلام نے چچی اور 3 سالہ ہادی کو بچانے کی کوشش میں پانی میں چھلانگ لگائی تھی، مگر وہ خود بھی جانبر نہ ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں:مون سون کی تباہ کاریاں جاری، ہلاکتیں 252 تک پہنچ گئیں، مزید بارشوں کی پیشگوئی

ڈائریکٹر ایڈمن شاہدہ اسلام میڈیکل کالج کے مطابق ڈاکٹر مشعال اور فہد اسلام کی میتیں چلاس سے لودھراں دوپہر 2 بجے تک پہنچا دی جائیں گی۔

نماز جنازہ شام ساڑھے پانچ بجے ادا کی جائے گی، جس کے بعد دونوں کو آدم واہن قبرستان میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

ادھر حکومتی ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق بابوسر شاہراہ پر سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔ اب تک 6 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ دیگر لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے متاثرہ علاقے کا دورہ کر کے متاثرین سے ملاقات کی اور آپریشن کی نگرانی کی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ بابوسر روڈ اور ناران شاہراہ بند ہیں، تاہم شاہراہ ریشم خنجراب سے راولپنڈی تک کھلی ہے۔ گزشتہ روز بابوسر میں پھنسے سیاحوں کو بھی بحفاظت چلاس منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس وقت گلگت بلتستان میں کوئی سیاح پھنسا ہوا نہیں ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل لودھراں سے تعلق رکھنے والی ایک فیملی پکنک منانے اسکردو گئی تھی، واپسی پر تھک بابوسر کے قریب اچانک سیلابی ریلا آیا، جس میں ڈاکٹر مشعال فاطمہ، ان کے دیور فہد اسلام جاں بحق ہوگئے، جبکہ ڈاکٹر مشعال کا بیٹا عبدالہادی اب تک لاپتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسکردو دیوسائی روڈ کھول دی گئی: پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے 200 سے زائد سیاح ریسکیو، بابوسر روڈ پر ایمرجنسی نافذ

حادثے کے بعد لاشیں مقامی اسپتال منتقل کی گئیں، جہاں سہولیات کی کمی کے باعث مسائل کا سامنا ہے۔ فیملی ممبر ڈاکٹر حفیظ اللہ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ اسپتال میں 2 روز سے بجلی نہیں، جس کے باعث لاشوں کو برف کے بلاکس سے محفوظ رکھا جارہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر لاشوں کی لودھراں منتقلی کا بندوبست کیا جائے تاکہ تدفین کی جاسکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ارکانِ اسمبلی کی ملاقات، ترقیاتی منصوبوں پر اطمینان کا اظہار

استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد، مرمت اور برآمد کا نیا منصوبہ کیا ہے؟

نمرہ خان کے نکاح کی تصاویر وائرل، دلہے کی پہلی جھلک سامنے آگئی

ٹرمپ کے امن معاہدے کے اشارے پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی

سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور کے ذریعے توانائی کے حصول پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

ویڈیو

معرکہ حق: بھارت اب پاکستان کی طرف دشمنی کی نظر سے دیکھنے کی ہمت نہیں کرے گا، اسلام آباد کے عوام کی رائے

خیبرپختونخوا حکومت کا بجٹ، عوام کیا کہتے ہیں، کیا ان کے مسائل حل ہوں گے؟

امریکی صدر کی اسٹریٹجی ناکام، ایران سے مذاکرات کی جلدی

کالم / تجزیہ

اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے؟

انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟

ٹریل 5: فطرت، تنہائی اور خودکلامی