راولپنڈی کے علاقے چھتی قبرستان میں عدالتی حکم پر جرگے کے حکم پر قتل کی گئی لڑکی سدرہ کی قبر کشائی کا عمل پیر کی صبح مکمل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:راولپنڈی میں جرگے کے حکم پر قتل کی جانے والی لڑکی کی قبر کشائی کا حکم
قبر کشائی کے دوران علاقے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
🚨جرگے کے فیصلہ پر 18سال کی لڑکی کو قتل کرنے کا معاملہ۔۔
ہولی فیملی اسپتال کی لیڈی ڈاکٹر٫ DSP ٫ ایلیٹ کمانڈوز ٫ چھٹی قبرستان پہنچ گئی۔۔ قبر کشائی کی جگہ پر ٹینٹ لگا دیئے گئے۔۔۔ pic.twitter.com/Rkb6mYF8ZV— Mehwish Qamas Khan (@MehwishQamas) July 28, 2025
تفصیلات کے مطابق مجسٹریٹ موقع پر چھتی قبرستان پہنچے اور جائے وقوعہ کا جائزہ لیا، جس کے بعد قبر کشائی کا آغاز کر دیا گیا۔
ٹی ایم اے کے ملازمین نے قبر کھودنے کا عمل مکمل کیا، جب کہ ہولی فیملی اسپتال کی لیڈی ڈاکٹر مصباح اور میڈیکل بورڈ کے دیگر ارکان بھی موقع پر موجود رہے۔
ذرائع کے مطابق عدالتی حکم پر قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کی کارروائی مکمل کی گئی، اور میڈیکل بورڈ نے ضروری نمونے حاصل کیے۔
یہ بھی پڑھیں:غیرت کے نام پر قتل: جرگے کے سربراہ نے فیصلہ سنایا، پھر جنازہ پڑھایا، مزید انکشافات کا امکان
پوسٹ مارٹم کے بعد سدرہ کی لاش کو دوبارہ وہیں دفن کر دیا گیا۔ چھتی قبرستان میں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی، جب کہ قبر کے گرد قناعتیں اور حفاظتی حصار قائم کر کے کارروائی مکمل کی گئی۔
یاد رہے کہ یہ واقعہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب اطلاعات کے مطابق ایک قبائلی جرگے کے حکم پر لڑکی کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔

سدرہ نامی نوجوان لڑکی کی ہلاکت کو پہلے طبعی موت قرار دیا گیا تھا، تاہم بعد میں اس کی موت مشکوک قرار دی گئی۔
عدالت نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کا حکم جاری کیا تھا تاکہ موت کی اصل وجہ سامنے آ سکے۔
یہ کیس ملک میں غیرت کے نام پر قتل اور جرگہ کلچر کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کے لیے ایک اور مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔












