امریکی کانگریس کی رکن اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قریبی اتحادی،مارجوری ٹیلر گرین نے اسرائیل پر غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام لگا دیا ہے جو ڈیموکریٹس کے بعد غزہ کے حوالے سے ریپبلکن پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔
اپنے حالیہ سوشل میڈیا بیان میں ٹیلر گرین نے غزہ میں پیدا ہونے والے انسانی بحران اور اسرائیلی ناکہ بندی کے نتیجے میں 120 سے زائد فلسطینیوں کی بھوک سے اموات پر شدید تنقید کی۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ میں نسل کشی پر خاموش رہنے والا شریکِ جرم ہے، ترک صدر رجب طیب ایردوان
گرین نے لکھا کہ 7 اکتوبر کے واقعات اور یرغمالیوں کی رہائی کی اہمیت سے انکار نہیں مگر غزہ میں جو نسل کشی، انسانی بحران اور قحط ہے، اسے نظرانداز کرنا بھی ممکن نہیں۔
اب تک امریکی کانگریس میں بہت کم اراکین نے اسرائیل پر کھلے عام نسل کشی کا الزام لگایا ہے۔ اس سلسلے میں ٹیلر گرین کا بیان اس لیے بھی اہم ہے کیوں کہ وہ امریکی صدر کی قریبی اتحادی اور انہیں ٹرمپ کی ‘میک امریکا گریٹ اگین’ تحریک کی نمایاں چہرہ سمجھی جاتی ہیں۔
ان کا یہ بیان اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے ان دعوؤں سے مماثلت رکھتا ہے جن کے مطابق اسرائیل کے اقدامات نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق نسل کشی کا مطلب کسی نسلی، مذہبی یا قومی گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کا ارادہ رکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: فلسطینیوں کی نسل کشی میں کونسی کمپنیاں ملوث ہیں؟ اقوام متحدہ نے فہرست جاری کردی
دوسری جانب ڈیموکریٹ رکن کانگریس جان گارامنڈی نے بھی گزشتہ ہفتے اسرائیل کی جانب سے امدادی سامان کی راہ میں رکاوٹوں کو نسل کشی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے امداد کی راہ میں رکاوٹ اور قحط کے حالات کو دیکھ کر یہ کہنا مشکل نہیں کہ یہاں نسل کشی ہو رہی ہے۔
ریپبلکن رہنما رینڈی فائن نے حال ہی میں ایک متنازع بیان میں کہا کہ یرغمالیوں کو رہا کرو، تب تک بھوکے رہو! انہوں نے فلسطینیوں کی بھوک کو ‘مسلم دہشت گردی کا پروپیگنڈا’ بھی قرار دیا۔ ان کے سابقہ بیانات میں بھی اسلاموفوبک اور فلسطین مخالف جذبات نمایاں رہے ہیں۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب غزہ میں بچوں کی بھوک سے مرنے کی تصاویر اور وسیع پیمانے پر قحط نے بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے خلاف آوازوں کو مزید توانا کر دیا ہے۔