’خودکشی کے خیالات آتے تھے‘، یوزویندر چاہل نے طلاق پر خاموشی توڑ دی

جمعہ 1 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی یوزویندر چاہل نے اپنی طلاق کے بارے میں خاموشی توڑتے ہوئے بتایا کہ ان کے اور دھناشری کے درمیان تعلقات میں کہاں دراڑ آئی اور طلاق کے افواہوں کے دوران دھوکا دہی کے الزامات نے ان کی صحت پر کیا اثر ڈالا۔

یوزویندر چاہل نے بتایا کہ انہوں نے طلاق کے عمل کو اس وقت تک نجی رکھا جب تک یہ مکمل نہ ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کافی عرصے سے چل رہا تھا۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم لوگوں کو نہیں بتائیں گے۔ کون جانتا تھا کہ اگر یہ نہیں ہوتا تو کیا ہوتا؟ شاید صورتحال مختلف ہو جاتی۔ ہم نے سوچا جب تک واپس پلٹنے کا کوئی راستہ نہ ہو، کچھ نہیں کہیں گے۔ سوشل میڈیا پر عام جوڑے کی طرح رہیں گے‘۔

یہ بھی پڑھیں: ’ایک دوسرے کے کیمرا مین لگ رہے‘، یوزویندر چاہل اور آر جے مہوش کی لندن میں سیر کی تصاویر وائرل

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس وقت دکھاوا کر رہے تھے تو چاہل نے سر ہلایا، جس سے ظاہر ہوا کہ ہاں وہ بالکل دکھاوا کر رہے تھے۔ انڈین کھلاڑی نے وضاحت کی کہ وہ دونوں (چاہل اور دھناشری) اپنے اپنے کیریئر پر بہت زیادہ توجہ دے رہے تھے، جس کی وجہ سے تعلقات کو ترجیح دینا مشکل ہو گیا اور اس طرح وقت کے ساتھ جذباتی دوری بڑھ گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ تعلقات ایک سمجھوتہ ہے۔ اگر ایک غصہ ہوتا ہے تو دوسرے کو سننا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی دو لوگوں کی فطرت میل نہیں کھاتی۔ میں بھارت کے لیے کھیل رہا تھا، وہ بھی اپنا کام کر رہی تھی۔ یہ ایک دو سال سے چل رہا تھا۔

بھارتی کھلاڑی کا کہنا تھا کہ ’اس وقت میں اس میں اتنا مصروف تھا کہ ایک جگہ وقت دینا پڑتا تھا، دوسری جگہ وقت دینا پڑتا تھا۔ میں تعلقات کے بارے میں سوچ نہیں پا رہا تھا۔ پھر ہر روز یہی سوچتا تھا، چھوڑ دو۔ دو بلند حوصلہ لوگ ساتھ رہ سکتے ہیں۔ ہر ایک کی اپنی زندگی ہے۔ ہر ایک کے اپنے ہدف ہیں۔ ایک شریک حیات کے طور پر آپ کو سپورٹ کرنا ہوتا ہے۔ آپ 18-20 سال کسی چیز کے لیے کام کر رہے ہیں، اسے تعلقات کے لیے چھوڑنا ممکن نہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: یوزویندر چاہل اور دھناشری کی راہیں الگ، کرکٹر عدالتی حکم پر اہلیہ کو کتنی رقم دینے کے لیے تیار ہوگئے؟

یوزویندر چاہل نے بتایا کہ ’میری طلاق کے وقت لوگ مجھے دھوکہ باز کہتے تھے۔ میں نے کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیا۔ میں ایسا شخص نہیں ہوں۔ آپ مجھے کسی سے زیادہ وفادار نہیں پائیں گے۔ میں اپنے قریبی لوگوں کے لیے دل سے سوچتا ہوں۔ میں کبھی مانگتا نہیں، ہمیشہ دیتا ہوں۔ جب لوگ کچھ نہیں جانتے اور الزام لگاتے ہیں تو آپ سوچنے لگتے ہیں‘۔

ہریانہ سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی نے بتایا کہ ’میری دو بہنیں ہیں اور میں بچپن سے ان کے ساتھ بڑا ہوا ہوں، مجھے عورتوں کا احترام کرنا آتا ہے، کیونکہ میرے والدین نے مجھے سکھایا ہے کہ عورتوں کا احترام کیسے کرنا ہے۔ میں نے اپنی زندگی کے اسباق اپنے آس پاس کے لوگوں سے لیے ہیں۔ ضروری نہیں کہ اگر میرا نام کسی کے ساتھ جُڑ جائے تو لوگ صرف ناظرین کے لیے کچھ بھی لکھیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: دھناشری ورما سے علیحدگی کی خبروں پر یوزویندر چاہل کا بیان سامنے آ گیا

چہل نے اعتراف کیا کہ عوامی تنقید اور ذاتی مسائل کا ایک ساتھ سامنا کرنا ان کی ذہنی صحت پر شدید اثر ڈالا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ڈپریشن میں چلے گئے اور خودکشی کے خیالات بھی آئے۔

انہوں نے بتایا کہ ’میرے ذہن میں خودکشی کے خیالات آئے، میں اپنی زندگی سے تھک گیا تھا، 2 گھنٹے رویا کرتا تھا۔ میں صرف 2 گھنٹے سوتا تھا۔ یہ 40-45 دن تک چلا۔ مجھے کرکٹ سے وقفہ چاہیے تھا۔ میں کرکٹ میں بہت مصروف تھا۔ میں توجہ نہیں دے پا رہا تھا۔ اپنے دوست سے خودکشی کے خیالات شیئر کرتا تھا۔ مجھے خوف آتا تھا‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فلوریڈا میں 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کا منصوبہ، وجہ کیا ہے؟

ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2028 کی میزبانی پاکستان کو مل گئی

لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

طالبان کے مکس سگنلز پر اعتبار کرنا خطرناک ہوگا، وزیر دفاع خواجہ آصف

یوٹیوبر عادل راجا کا گھناؤنا چہرہ پھر بے نقاب، اسرائیلی اخبار کو پاکستان مخالف انٹرویو دے ڈالا

ویڈیو

ایم پی ایز نے بغاوت کردی، کیا سہیل آفریدی کی کرسی خطرے میں ہے؟

بھارت ایک بار پھر شوق پورا کرلے، افواج پاکستان جواب دینے کے لیے تیار ہیں، وزیر دفاع کا بھارتی آرمی چیف کی گیدڑ بھبکی پر ردعمل

یورپی یونین نے پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کردی، مذاکرات بہترین راستہ قرار

کالم / تجزیہ

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی

گجرات کی گلیاں انور مسعود کو یاد کرتی ہیں

کوئٹہ سے تل ابیب تک