بھارت کی سرکاری ریفائنریز نے روسی تیل کی درآمد روک دی، سبب کیا نکلا؟

جمعہ 1 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی سرکاری ملکیت والی تیل صاف کرنے والی کمپنیوں نے گزشتہ ہفتے سے روسی خام تیل کی درآمد روک دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس فیصلے کی بڑی وجوہات میں رعایت میں نمایاں کمی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روسی تیل کے خریداروں پر ممکنہ بھاری محصولات کی دھمکی شامل ہیں۔

 آئی او سی نے خریداری بند کی

بھارت کی سب سے بڑی سرکاری آئل ریفائنری انڈین آئل کارپوریشن (IOC) نے روسی تیل کی خریداری بند کر دی ہے۔ یہ کمپنی بھارت کی 20 میں سے 10 ریفائنریز چلاتی ہے جن کی کل سالانہ پیداواری صلاحیت 60 ملین میٹرک ٹن ہے۔

یہ بھی پڑھیے روس سے تیل کی خریداری امریکا اور بھارت کے تعلقات میں ’چبھتا ہوا نکتہ‘ بن چکا، مارکو روبیو

دیگر سرکاری ریفائنریز جنہوں نے روسی خام تیل کی درآمد روکی ہے ان میں شامل ہیں:

ہندوستان پٹرولیم

بھارت پٹرولیم

منگلور ریفائنری اینڈ پیٹروکیمیکلز

 متبادل ذرائع سے تیل کی فراہمی

ذرائع کے مطابق ان کمپنیوں نے تیل کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے Spot Market (فوری خریداری کی مارکیٹ) کی طرف رجوع کیا ہے، اور اب یہ کمپنیاں مشرق وسطیٰ کے OPEC ممالک اور مغربی افریقی ملکوں سے تیل کی خریداری بڑھا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں روسی تیل خریدا تو بھارت، چین، برازیل کی معیشت تباہ کر دیں گے، امریکا کی وارننگ

یہ رجحان اس حقیقت کے بالکل برعکس ہے کہ بھارت نے 2022 میں روس-یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد سے روسی تیل کو بڑے پیمانے پر رعایتی قیمت پر خریدنا شروع کیا تھا۔

 روس پر انحصار میں کمی

گزشتہ 2 برسوں میں بھارت روس کا بڑا خریدار بن کر ابھرا، جس سے ماسکو نے یورپی منڈیوں سے ہاتھ دھونے کے بعد کافی حد تک نقصان پورا کیا۔ تاہم، تازہ پابندیوں اور سیاسی دباؤ کے باعث سرکاری شعبے کی کمپنیاں اب محتاط پالیسی اپنا رہی ہیں۔

 نجی کمپنیاں بدستور درآمد جاری رکھے ہوئے

اس کے برعکس، بھارت کی نجی ریفائننگ کمپنیاں مثلاً ریلائنس انڈسٹریز اور نایارا انرجی، اب بھی روسی تیل کے سب سے بڑے خریداروں میں شامل ہیں۔ نایارا، جس میں روسی سرکاری تیل کمپنی Rosneft کا حصہ بھی شامل ہے، حال ہی میں یورپی یونین کی 18ویں پابندیوں کی فہرست میں بھی شامل کی گئی ہے۔

 ٹرمپ کی دھمکی اور ممکنہ تجارتی نتائج

بھارتی سرکاری کمپنیوں کا روسی تیل سے پیچھے ہٹنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تازہ ترین دھمکی کے بعد دیکھنے میں آیا، جس میں انہوں نے روس سے 8 اگست تک یوکرین کے ساتھ امن معاہدہ نہ کرنے کی صورت میں روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد محصولات عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی آئل ریفائنری پر یورپی یونین کی پابندیاں، وجہ کیا بنی؟

یہ پیش رفت بھارت کی توانائی پالیسی میں اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں جغرافیائی سیاست اور بین الاقوامی دباؤ کے پیش نظر توانائی کے ذرائع کو تیزی سے متنوع بنایا جا رہا ہے۔ تاہم، یہ بھی دیکھا جانا باقی ہے کہ آیا نجی کمپنیاں بھی آئندہ دنوں میں اسی نوعیت کی پابندیوں کا سامنا کریں گی یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

افریقہ کی منڈیوں میں داخلے کا سنہری موقع، یوگنڈا کی پاکستان کو 25 سال تک ٹیکس چھوٹ سرمایہ کاری کی پیشکش

صومالی قزاقوں کو تاوان ادا نہیں کریں گے، پاکستان عالمی قوانین کا پابند ہے، اسحاق ڈار

ملک کے مختلف علاقوں میں 30 اگست سے 4 ستمبر تک بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری

وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کا بند راستے کھولنے اور انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا اعلان، گرین بس سروس کا افتتاح کردیا

ویڈیو

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں