پلاسٹک آلودگی کے خلاف عالمی معاہدہ، جنیوا میں مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل

منگل 5 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا کو پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے بحران سے بچانے کے لیے جنیوا میں جاری اقوام متحدہ کے زیرِاہتمام مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں 179 ممالک کے مندوبین اور سینکڑوں ماہرین ماحول، سائنس دان اور صنعتی نمائندے پلاسٹک کی آلودگی روکنے کے عالمی معاہدے پر غور کر رہے ہیں۔

یہ مجوزہ معاہدہ پلاسٹک کی تیاری، استعمال، ری سائیکلنگ اور تلفی کے تمام مراحل کا احاطہ کرے گا۔ اس کا مقصد پلاسٹک کے فضلے کو کم کرنا اور ماحول، انسانی صحت اور معیشت پر اس کے مضر اثرات کا سدباب ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) نے خبردار کیا ہے کہ اگر دنیا نے فوری اقدام نہ کیا تو 2060 تک پلاسٹک کا فضلہ 3 گنا بڑھ جائے گا۔ ماہرین کے مطابق صرف 2040 تک پلاسٹک کا ماحولیاتی اخراج 50 فیصد بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ آلودگی کے نقصانات کی لاگت 281 ٹریلن ڈالر سے تجاوز کرسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: عالمی یوم ماحولیات: پلاسٹک آلودگی سے زمین، سمندر اور انسان سب خطرے میں

اب تک 5 مذاکراتی اجلاس ہو چکے ہیں۔ پہلا 2022 میں یوروگوئے، پھر فرانس، کینیا، کینیڈا اور آخری جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں۔ موجودہ اجلاس 5 سے 14 اگست تک جاری رہے گا، جس میں ایک 22 صفحات پر مشتمل مسودے پر سطر بہ سطر بات چیت ہو رہی ہے۔ اس میں پلاسٹک کی پیداوار سے لے کر اس کے متبادل تک تمام پہلو شامل ہیں۔

صرف ری سائیکلنگ کافی نہیں

UNEP کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن کا کہنا ہے کہ صرف ری سائیکلنگ سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ دنیا کو پلاسٹک کی گردشی معیشت کی طرف جانا ہوگا، جس میں پلاسٹک کی پیداوار اور استعمال دونوں محدود کیے جائیں۔

انسانی صحت کو خطرہ

عالمی طبی جریدے دی لینسٹ نے خبردار کیا ہے کہ پلاسٹک میں شامل کیمیکلز زندگی کے ہر مرحلے پر انسان کی صحت کو متاثر کرتے ہیں، خصوصاً نومولود بچوں کے لیے یہ خطرات سنگین ہوتے ہیں۔ سالانہ طور پر پلاسٹک سے ہونے والے طبی نقصانات کی معاشی قیمت 1.5 ٹریلن ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: ماحولیات کا عالمی دن: لاکھوں لوگ پلاسٹک کی آلودگی کے خاتمے کے لیے کوشاں

مزاحمت اور مفادات

ماحولیاتی ماہرین نے اس معاہدے کو ’پیرس معاہدے‘ جتنا ہی اہم قرار دیا ہے، تاہم بعض تیل پیدا کرنے والے ممالک کی طرف سے دباؤ بھی سامنے آ رہا ہے، کیونکہ پلاسٹک کی تیاری میں خام تیل اور قدرتی گیس بنیادی جزو کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مستقبل کا فیصلہ کن لمحہ

’آئی این سی‘ کی سربراہ جیوتی ماتھر فلپ کے مطابق 2024 میں دنیا نے 500 ملین ٹن پلاسٹک استعمال کیا، جس میں سے 399 ملین ٹن فضلہ اب بھی ماحول کا حصہ ہے۔ جنیوا میں ہونے والے یہ مذاکرات دنیا کو اس تباہ کن راستے سے ہٹانے کی ایک بڑی کوشش سمجھے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شہزادہ چارلس اور شہزادی ڈیانا کے ہنی مون کی تلخ یادیں سامنے آگئیں

بھارت کا اسرائیل کو فراہم کردہ اسلحہ غزہ جنگ میں استعمال ہو رہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

فیفا، ارجنٹینا اور سازشی نظریات: حقائق کیا کہتے ہیں؟

کینسر علاج میں اہم پیشرفت، 58 سالہ خاتون کو جدید مدافعتی تھراپی دی گئی

عبدالعلیم خان نے ہر صوبے کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دے دی

ویڈیو

لائیوبلوچستان میں ترقی روکنے کے لیے دہشتگردی کی جاتی ہے، احساسِ محرومی اور نمائندگی کا بیانیہ حقائق کے منافی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘