وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ بہت سے ملک دشمن عناصر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششیں کررہے ہیں، دہشتگردی کسی کو قبول نہیں، کیونکہ اس سے سب یکساں طور پر متاثر ہورہے ہیں۔ وفاق نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم نے شروع دن سے صوبے میں امن کے لیے جرگوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا دہشتگردوں کے ہاتھوں یرغمال، میرا اپنے گاؤں جانا تک محال ہے، مولانا فضل الرحمان
انہوں نے کہاکہ ان کوششوں کا مقصد دہشتگردی کے خلاف عوام کو آن بورڈ کرنا اور ان کا اعتماد حاصل کرنا ہے، دہشتگردی جس طرح سے پھیل رہی ہے یہ قابل قبول نہیں، حکومت کی عملداری کو ہر صورت برقرار رکھنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آپریشن اور لوگوں کا انخلا ہماری حکومت کی پالیسی نہیں ہے، ہم نے کسی کو آپریشن کی اجازت دی ہے اور نہ ہی آپریشن ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ باجوڑ کا مسئلہ مذاکرات سے حل کرنے کے لیے جرگے نے بہت کوششیں کیں، مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ٹارگٹڈ کارروائیاں کی جا رہی ہیں، دفعہ 144 مقامی آبادی کے تحفظ کے لیے لگایا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ ٹارگٹڈ کارروائیوں کے نتیجے میں جو لوگ رضا کارانہ طور پر اپنی مرضی سے گھر بار چھوڑ رہے ہیں، انہیں تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ان لوگوں کو بروقت سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے اس میں کوئی کوتاہی نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی روکنے کے لیے خیبرپختونخوا حکومت کا افغانستان سے مذاکرات پر زور
علی امین گنڈاپور نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں سویلین کا نقصان قابل قبول نہیں چاہے وہ کسی بھی طرف سے ہو، وفاق نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے، صوبائی حکومت اس سلسلے میں ہوم ورک کررہی ہے۔













