وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے واضح کیا ہے کہ ملک میں کسی نئے یا بڑے فوجی آپریشن کا آغاز نہیں کیا گیا بلکہ معمول کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ آپریشنز کبھی چند گھنٹوں کے لیے ہوتے ہیں، کبھی ایک دن کے لیے، اور بعض اوقات طویل بھی ہو سکتے ہیں، جن میں سویلینز کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جاتی ہے تاکہ اجتماعی نقصان کم سے کم ہو۔
یہ بھی پڑھیں:ہتھیار ڈالیں یا واپس افغانستان جائیں، ورنہ آپریشن ہوگا، باجوڑ امن جرگے نے طالبان پر واضح کردیا
اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت باجوڑ کے معاملے پر ہمارے ساتھ ہے اور صوبوں کے ساتھ مکمل تعاون کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق نیشنل ایکشن پلان پر صوبوں کے ساتھ مل کر عملدرآمد کیاجاتاہے۔
’ملک بھر میں روزانہ تقریباً 190 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز ہوتے ہیں، جن میں متعدد سندھ اور پنجاب میں جبکہ زیادہ تر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں انجام پاتے ہیں۔‘
مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا: باجوڑ قومی جرگے اور طالبان میں مذاکرات ناکام، آپریشن شروع
انہوں نے بتایا کہ باجوڑ کی دو تحصیلوں میں مصدقہ انٹیلیجنس اطلاعات موجود ہیں جہاں افغان اور خوارج کی بڑی تعداد ہے، اور وہاں بھی نیشنل ایکشن پلان کے تحت آئی بی او کیے جا رہے ہیں، جن میں خیبر پختونخوا حکومت شامل ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کے آپریشن مخالف بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ اس نوعیت کی باتیں قوم میں کنفیوژن پیدا کرتی ہیں۔ ’ایک بات پر وضاحت ہونی چاہیے کہ دہشت گردی نامنظور ہے اور پاکستان میں دہشت گرد نہیں رہے گا، ریاست اپنی پوری طاقت ان کے خلاف استعمال کرے گی۔‘
مزید پڑھیں:آپریشنز میں عام شہریوں کی ہلاکتیں، فوج اور عوام میں اعتماد متاثر ہورہا ہے، وزیراعلیٰ گنڈاپور
طلال چوہدری انہوں نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ باجوڑ میں کسی بڑے آپریشن کی تیاری کی جا رہی ہے، ایسا کوئی آپریشن نہیں ہو رہا جس میں نقل مکانی اور بعد میں آبادکاری کی ضرورت پڑے، جیسا کہ ماضی میں ہوا۔
’آئی بی اوز ہماری روٹین کا حصہ ہیں اور کئی سالوں سے جاری ہیں، ان میں حکمت عملی اور ہتھیار کا فیصلہ گراؤنڈ فورس کرتی ہے۔‘












