پاکستان کی معروف فیشن ڈیزائنر اور بزنس ویمن ماریہ بی نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ایک نجی LGBTQ پارٹی منعقد ہوئی، جس میں ان کے مطابق اسکول کے بچوں کو بھی مدعو کیا گیا۔ ماریہ بی کے مطابق، یہ ویڈیو اور تصاویر انہیں چند بچوں نے فراہم کیں جو اس تقریب میں شریک تھے۔
فیشن ڈیزائنر نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس تقریب میں شرکت کرنے والوں کے ملبوسات اور انداز انہیں غیر اخلاقی اور قابلِ اعتراض لگے۔
مزید پڑھیں: ریپبلکن پارٹی کا ٹرمپ کی ’لادا‘ کے ساتھ فوٹو پوسٹ کرنا مذاق کیوں بن گیا؟
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس نوعیت کی تقریبات پاکستانی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہیں اور حکومت کو اس حوالے سے واضح پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلمساز سرمد کھوسٹ کی فلم جوائے لینڈ، جو LGBTQ موضوعات پر مبنی ہے، بھی لاہور میں نجی اسکریننگ کے طور پر دکھائی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: علی امین گنڈاپور کے ذریعے پارٹی میں اسٹیبلشمنٹ کا پیغام آتا ہے، لطیف کھوسہ
ماریہ بی کے بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ جہاں کئی صارفین نے ان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی سرگرمیوں کو روکنا چاہیے، وہیں کچھ صارفین نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماریہ بی غیر ضروری طور پر مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنا رہی ہیں۔














