ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

جمعہ 5 جون 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گزشتہ دنوں ایک پرانے دوست سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک نجی ادارے میں ملازم ہیں، پڑھے لکھے اور سوچنے سمجھنے والے آدمی ہیں۔ بات چیت میں انہوں نے ایک فقرہ کہا جو مجھے بہت دیر تک سوچنے پر مجبور کرتا رہا۔ کہنے لگے کہ “بھائی، ہر طرف سے ریاست ہی تو ظلم کر رہی ہے، یہ دہشت گردی اور بے چینی تو ردعمل ہے۔”
میں نے سوچا کہ میرا یہ دوست اکیلا نہیں ہے۔ بہت سے لوگ ایسا سوچتے ہیں۔ یہ سوچ کہاں سے آتی ہے اور کیوں آتی ہے، یہ سمجھنا ضروری ہے۔

پہلے ایک بنیادی بات کریں۔ دنیا میں کوئی بھی واقعہ اچانک نہیں ہوتا۔ جب بیک وقت کئی شہروں میں چھوٹے چھوٹے معاملات پر اچانک شدید احتجاج پھوٹ پڑے، جب پولیس چوکیوں پر خود کش حملے ہونےلگیں، جب یونیورسٹی پروفیسر اور وائس چانسلر اغوا ہوں، جب اسسٹنٹ کمشنر اور ضلعی افسران کو بے رحمی سے نشانہ بنایا جائے، جب خواتین کو خودکش بمبار بنانے کی باقاعدہ اور منظم مہم چلائی جائے تو کیا یہ سب اتفاق ہوتا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ اتفاقات اس طرح منظم نہیں ہوتے۔ یہ کوئی خودرو پودا نہیں جو اچانک اگ آئے۔ کئی نادیدہ دشمنوں کے ہاتھ نفرتوں کے ان زہریلے بیجوں کو بوتے ہیں،انہیں پانی دیتے اور “کھاد دیتے ہیں۔پھر جا کر کہیں یہ زیریلی فصل کاشت ہوتی ہے۔

ایک بات اور سمجھ لیں۔ پاکستان جیسے تھرڈ ورلڈ کے ملکوں میں حکومتیں مثالی نہیں ہوتیں۔ انتظامیہ میں خرابیاں ہیں، کرپشن ہے، مسائل ہیں۔ الیکشن میں بھی مسائل آ جاتے ہیں۔ ان سب پر لوگ پریشان ہوتے ہیں، احتجاج بھی کرتے ہیں اور یہ سب ایک فطری عمل ہے۔ انڈیا کی مثال لے لیں۔ وہاں پر بی جے پی کیا کچھ نہیں کر رہی ؟ابھی ویسٹ بنگال کے الیکشن میں صرف ممتا بنرجی کو ہرانے کے لئے نوے لاکھ سے زیادہ ووٹ کینسل کئے گئے، باقاعدہ پلاننگ کے تحت مسلم اکثریتی ووٹروں والے حلقے سے مسلم ووٹ خارج کر کے ان کے ووٹوں کی اکثریت ختم کر دی گئی، پھر وہاں سے بی جے پی جیت گئی۔ کیا اس پر ویسٹ بنگال کے لوگوں نے بندوقیں اٹھا لیں؟ خود کش حملے شروع کر دئیے ؟ ظاہر ہے نہیں۔

تھرڈ ورلڈ کے ممالک میں حکومتیں آتی جاتی ہیں، اچھی بھی آتی ہیں، بری بھی، درمیانی بھی۔ یہ سب ایک معمول کی سطح پر چلتا رہتا ہے۔ مگر جب ملک کے بیک وقت کئی حصوں میں ایک ہی انداز کی آگ بھڑکنے لگے، جب نشانے ایک جیسے ہوں اور طریقہ ایک جیسا ہو تو پھر یہ فطری عمل نہیں رہتا۔ یہ بھڑکائی گئی آگ ہوتی ہے۔

اس کے پیچھے غیر ملکی قوتیں ہوتی ہیں، دشمن ممالک کی پوری توانائی اور بے پناہ سرمایہ استعمال ہوتا ہے۔ یہ پراکسی وار ہے۔ یہ نئی بات نہیں، دنیا میں یہ ہر جگہ ہوئی ہے۔

خاصا عرصہ گزر گیا ہے مگر پھر بھی بیجنگ کے تیانمن اسکوائر پر ہونے والے طلبہ ہنگاموں کو یاد کریں۔ انیس سو نواسی میں جب بیجنگ کے اس عظیم چوک پر ہزاروں نوجوان جمع ہوئے، تو دنیا بھر کا میڈیا انہیں “جمہوریت کی آواز” بتا رہا تھا۔ مغربی حکومتیں بیانات دے رہی تھیں، دباؤ تھا۔ چینی حکومت تب دباو میں نہیں آئی ، انہوں نے سختی سے کام لیا اور اس “تحریک” کو ختم کر دیا جو یقینی طور پر چین مخالف عالمی قوتوں کے اشارے پر چلائی جا رہی تھی۔ کبھی اس حوالے سے امریکی کلاسیفائیڈ ڈاکیومنٹس پبلک کئے گئے تو حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔ اس تحریک کا واحد مقصد سوویت یونین کی طرح چین کو بھی توڑنا اور انتشار کا شکار کرنا تھا۔ آج وہی لوگ جو تب چین کو کوستے تھے، چین کی معاشی طاقت کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔ اگر تب چینی قیادت نے وہ فیصلہ نہ کیا ہوتا تو آج چین امریکہ کا مدمقابل نہ ہوتا۔ چین بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہوتا۔

ذرا آج کے پاکستان کو دیکھیں۔ بلوچستان میں کچھ مسائل برسوں سے تھے، مگر بلوچ شدت پسندوں کی دہشت گرد کارروائیوں میں شدت ابھی دو تین سالوں سے آئی ہے، خاص کر پچھلے سال انڈیا کے ساتھ جنگ کے بعد تو لگتا ہے بلوچستان میں بلوچ انسرجنسی میں کسی نے فیول انڈیا دیا ہو۔

ایک خاص بات یہ ہوئی کہ بلوچستان کے پشتون علاقوں میں بلوچ علیحدگی پسندوں کا اثر نہ ہونے کے برابر تھا۔اچانک ہی اسے بھی تبدیل کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں جیسے کوئی بلوچستان کی پشتون بیلٹ کو بھی ڈسٹرب کرنا چاہ رہا ہے۔ ٹی ٹی پی کی کارروائیاں بھی پشتون علاقوں میں زور پکڑ رہی ہیں، اور ساتھ ساتھ پشتون سیاسی جذبات کو بھی ایک خاص سمت میں دھکیلنے کی کوشش نظر آ رہی ہے۔ یہ سب ایک ہی وقت میں کیوں؟ کیا یہ اتفاق ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ ہرگز نہیں۔

اسی تناظر میں محمود خان اچکزئی کے حالیہ بیانات کو دیکھیں۔ وہ پختہ کار سیاستدان ہیں، دہائیوں کا تجربہ ہے۔ مگر اچانک وہ ایک ایسی ہارڈ لائن پر آ گئے جو حیرت میں ڈالتی ہے۔ ہر گھر سے ایک پشتون جوان لے کر “قومی فورس” بنانے کا اعلان، پختون نوجوانوں کو منظم کرنے کی بات، کیا یہ ریاستی فورسز کے ساتھ کام کرنے کی بات ہے یا ریاست کے مقابل ایک متوازی مسلح ڈھانچہ کھڑا کرنے کا منصوبہ؟ یہ سوال پوچھنا ضروری ہے۔

پھر اچکزئی صاحب کا یہ بیان آیا کہ پختونوں کو افغانستان کی شہریت لینی چاہیے۔ بقول ان کے جیسے پنجاب کے لوگ امریکی اور کینیڈین دوہری شہریت لئے پھرتے ہیں۔ سوچیں ذرا، کیا یہ موازنہ درست ہے؟ امریکہ یا کینیڈا کی شہریت کے لیے وہاں کئی برس مقیم رہنا پڑتا ہے، ملازمت کرنی پڑتی ہے، ہر طرح کا رگڑا سہنا پڑتا ہے، پھر جا کر کہیں شہریت ملتی ہے۔ اور وہ دوہری شہریت دو دوست ممالک کے درمیان ہوتی ہے جن میں سیاسی کشیدگی نہیں ہوتی۔ آج پاک افغان تعلقات کی جو صورتحال ہے، اس میں افغان شہریت لینے کی تجویز کا اصل مطلب کیا ہے؟ اچکزئی صاحب جیسے سمجھدار آدمی کو کم از کم یہ سوال خود اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ وہ کس کے ایجنڈے پر چل رہے ہیں اور کس طرف جا رہے ہیں۔

ہمیں تو اپنی تاریخ میں دیکھنا ہے۔ سقوط ڈھاکہ کا واقعہ اب صرف درد کی کہانی نہیں، ایک دستاویزی حقیقت بن چکا ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی “را” کے سابق افسران کی کتابیں، بنگلہ دیش کے سابق لیڈروں کے اپنے اعترافات، بھارتی وزیراعظم مودی کا خود یہ اعلان کہ وہ نوجوانی میں مکتی باہنی کے ساتھ رضاکار کے طور پر کام کرتے رہے، یہ سب مل کر ایک واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔ مشرقی پاکستان میں لوگوں کی محرومیاں تھیں، شکایات تھیں، سیاسی مسائل تھے۔ مگر “را” نے ان محرومیوں پر تیل چھڑکا، انہیں بھڑکایا، مکتی باہنی کی تربیت بھارتی سرزمین پر ہوئی، اسلحہ اور فنڈنگ را نے دی اور پھر دسمبر اکہتر میں وہ دن آیا جو پاکستانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ یہ را کا وہی پیٹرن ہے جو آج ہمیں پھر نظر آ رہا ہے۔ وہی شکایات، وہی بیانیہ، وہی طریقہ کار۔

میں ڈرتے ڈرتے ایک اور بات کہہ رہا ہوں کہ ذرا آزاد کشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر بھی نظر رکھیں۔ یہ پیٹرن بھی معمول کا نہیں لگ رہا۔ آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے چاروں صوبوں میں مقیم کشمیریوں کے لیے نشستیں دہائیوں سے چلی آ رہی ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں، یہ کوئی زیادتی نہیں، یہ تو ان لاکھوں کشمیریوں کی نمائندگی کا حق ہے جو پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہیں، جو ووٹر ہیں، جو شہری ہیں، جو آزاد کشمیر کے اپنے بھائیوں سے کم تر نہیں۔ مگر اچانک اس پر ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے لوگ ان بارہ نشستوں کو ختم کرنے کا مطالبہ لے کر آ گئے۔ پوچھنا چاہیے کہ کیا ان نشستوں کو ختم کرنے سے واقعتاً کوئی انتظامی مسئلہ حل ہوتا ہے؟ کیا ان بارہ نشستوں کی وجہ سے آزاد کشمیر کی اندرونی سیاست یرغمال ہو گئی ہے؟ اگر حکومت پاکستان آزاد کشمیر پر اثرانداز ہونا چاہے تو کیا اسے ان بارہ نشستوں کی ضرورت ہے؟ جواب سب جانتے ہیں۔ پھر یہ شور کیوں؟ منطق کوئی نہیں، مدلل بیانیہ کوئی نہیں، بس جذبات بھڑکانے کا کام ہو رہا ہے۔ اور جذبات بھڑکانا اتفاق سے نہیں ہوتا، اس کے پیچھے بھی ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہوتا ہے۔

یہاں ایک اہم سوال اٹھتا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کی ہر بات مانی جائے؟ کیا تمام حکومتی فیصلے درست ہوتے ہیں؟ نہیں، ایسا نہیں کہہ رہا۔ ریاستی ادارے غلطیاں بھی کرتے ہیں، ان کی نشاندہی ہونی چاہیے، اصلاح ہونی چاہیے، آواز اٹھانی چاہیے، یہ حق بھی ہے اور فرض بھی۔ مگر غلطیوں کی نشاندہی اور ریاست کو آگ لگانا دو بالکل مختلف کام ہیں۔ ڈاکٹر دوا بھی دیتا ہے اور زہر بھی دے سکتا ہے۔ فرق نیت اور مقصد کا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ آج پاکستان کے عام آدمی کو ہوشیار ہونے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر بہت سے چبھتے ہوئے فقرے پھیلائے جاتے ہیں، ایسے جملے جو سننے میں اچھے لگیں، جو آگے بڑھانے کو جی چاہے، مگر ان کے اندر زہر بھرا ہوتا ہے۔ یہ ففتھ جنریشن وار کا ہتھیار ہے، یہ اتنا ہی خطرناک ہے جتنا بارود۔

پراکسی وار کے اس شیطانی جال میں نہ پھنسیں۔ ریاستی بیانیہ ہمیشہ غلط نہیں ہوتا، کئی بار یہ بالکل درست ہوتا ہے۔ ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں، یہ شرمندگی کی بات نہیں، یہ تو اپنے گھر کو بچانا ہے۔ جب گھر میں آگ لگے تو آپ پہلے آگ بجھاتے ہیں یا پہلے گھر کی دیواروں میں پڑی دراڑوں کی فہرست بناتے ہیں؟

یہ ملک ہمارا ہے، یہ ریاست ہماری ہے۔ اس کی غلطیوں کی نشاندہی کریں، اصلاح کے لیے کام کریں، آواز اٹھائیں، مگر اسے جلنے نہ دیں۔ دلیری اور اعتماد کے ساتھ یہ موقف اپنائیں کہ ہم اپنی ریاست کے ساتھ ہیں۔ جو اس ریاست کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، ان کا آلہ بننے سے انکار کریں۔ یہی سب سے بڑی حب الوطنی ہے اور یہی وہ سبق ہے جو سقوط ڈھاکہ کی تاریخ ہمیں دیتی ہے۔

اللہ کرے کہ ہم اپنی تاریخ سے سیکھیں اور اس ملک کو محفوظ اور مضبوط دیکھیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp